ڈونلڈ ٹرمپ کی کرسیٔ صدارت پر براجمانی نیک شگون ثابت نہیں ہو رہی۔ جس دھوم دھڑکے، ڈینگ بازی اور سبھی کو للکار نے، دھمکانے، دنیا الٹ کر رکھ دینے کے زعم کا ہر جملے ہر آن اظہار تھا، وہ پے در پے اسی پر الٹ کرآن پڑا۔ مشرق وسطیٰ میں جہنم بھڑک اٹھے گی۔ اس کاجواب کیلی فورنیا میں 3 ہفتے پر محیط، وسیع علاقے پر (150 مربع کلو میٹر) بھڑک اٹھنے والے غضبناک شعلوںکی جہنم زار سے مل گیا۔ یہ ایک بڑھک امریکہ کو 275 ارب ڈالر کے نقصان کی پڑی۔ پھر اپنے ہمسایوں کو للکارنا شروع کر دیا۔ پاناما کینال ، امریکی کنٹرول میں لینے کی دھمکی دے دی۔ پاناما کے صدر نے مضبوط مدبرانہ لب ولہجے میں جواب دیا کہ یہ پاناما کی ملکیت ہے اور رہے گی اور ہم نے عالمی تجارت ذمہ دارانہ انداز میں نبھائی ہے۔ پھر باری تھی میکسیکو پر دھونس جمانے کی۔ ’گلف آف میکسیکو‘ کا نام بدل کر خلیج امریکہ رکھنے کی۔ میکسیکو کی صدر کلاڈ یا شین بام نے بے ساختہ اپنی تقریر میں اسے لطیفہ جان کر بر طرف کرتے کہا: ہمارے لیے اور پوری دنیا کے لیے یہ بدستور خلیج ِمیکسیکو ہے ۔میکسیکو، کیوبا دوسرے قریبی ممالک نے صدر ٹرمپ کا یہ حکم نامہ جاری کرنے کو محض ایک بڑھک جانا۔ اسے ناراضگی ،حیرت زدگی اور جھٹک دینے کے انداز میں لیا۔ پھر باری تھی میکسیکو، برازیل اور کو لومبیا کے غیر قانونی تارکین کو مجرم ، Aliens) (Criminal کہہ کر سخت تذلیل کے ساتھ نظر بند کرنے اور واپس بھیجنے کی۔ جس نے شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ پہلے 3 امریکی فوجی جہازوں کو تو میکسیکو نے اترنے کی اجازت نہ دی۔ بمشکل تمام مسئلہ حل کیا گیا۔ برازیل اور کولومبیا کے شہریوں کو بھی ہتھکڑیوں، زنجیروں میں بندھے شدید گرمی میں بے ہوش ہوتے، چیختے، روتے بچوں کے ساتھ جہازوں میں ٹھونس دیا گیا۔ مسافروں نے ایمر جنسی لیورکھینچ کر ہنگامی دروازے کھول کر جہاز کے پروں پر بیٹھ کر ہنگامہ کھڑا کیا۔ حکومتِ برازیل کی شدید خفگی پربرازیلی ایئر فورس جاکر بے دخل کیے جانے والے مسافر با عزت واپس لائی جس پر خطے بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ٹرمپ نے بے دخل کیے جانے والوں کو مجرمانہ القابات سے نوازا جس پر حکومتیں بپھر اٹھیں۔ادھر 20 سال ہر جائی امریکہ پر جانیں لٹاتے، ان کے مدد گار 40ہزار افغانوں کو بھی ٹرمپ نے لینے سے انکار کر دیا! پاکستان سمیت کئی بیرونی ممالک میں جانے کے منتظر بیٹھے اپنی قربانیاں یوں رد ہوتے دیکھ کر رو دھو رہے ہیں۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم!یہ رہا کر سیٔ صدارت پر ٹرمپ کا پہلا ہفتہ!
اسی دوران اسرائیل کو 2 ہزار پائونڈ بموں کی کھیپ بھیجی۔ مغربی کنارے پر قابض آباد کاروں پر لگائی پابندیاں ہٹائیں اور بائیڈن کی طرف سے روکی گئی 24 ہزار رائفلیں بھجوانے کا فرمان بھی صادر کیا۔ روکنے کی وجہ یہ خدشہ تھا کہ آباد کار یہودی اور
اسرائیلی پولیس اسے فلسطینیوں کے خلاف استعمال کرے گی۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا کتا غزہ اور مسلمانوں پر جو کھلا چھوڑا تھا، ٹرمپ بھنبھوڑ نے کی اس لہر میں سب سے بے رحم اور وحشی ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔ اسی کے تحت اجڑے تباہ حال فلسطینی، معاہدے کے بعد اب جب خوشی خوشی گھروں کو (کھنڈروں میں) لوٹ رہے ہیں تو ٹرمپ غزہ خالی کروانے کا نیا پلان بنا بیٹھا ہے۔ کہتا ہے: غزہ کو بس صاف کردو۔ مصر اور اردن مزید فلسطینی لیں۔ اردن میں پہلے ہی 23 لاکھ فلسطینی ہیں۔ مصر قبل ازیں بھی منع کر چکا ہے کہ انہیں غزہ سے صحرائے سینا نہیں بھیجا جاسکتا۔ یورپین یونین، امریکہ کے عرب پارٹنر، یواین سبھی کا کہنا ہے کہ فلسطینی آبادی غزہ سے نہیں نکالی جا سکتی۔ غزہ کسی طرح بھی اسرائیل کے ہاتھوں دوبارہ کالونائز نہ ہو۔ اسرائیلی، شہ پا کر مغربی کنارے کو غزہ ہی کی طرح تباہ کر رہے ہیں۔ گھروں پر قبضے، گھیراؤ، جلاؤ، گرفتاریاں۔ حماس، اسلامی جہاد اور فلسطینی سیاسی قیادت نے ٹرمپ کے اس ارادے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،فلسطینی ٹرمپ کی ایسی ہر کوشش ناکام بنا دیں گے کیونکہ یہ ایک اور نکبۃ کی تیاری ہے۔ قتلِ عام اور بے دخلی کی۔ بحمد اللہ عرب وزرائے خارجہ کانفرنس قاہرہ میں (یکم فروری) مصر، اردن ،سعودی عرب، قطر، امارات، فلسطینی اتھارٹی، عرب لیگ نے مشترکہ موقف اختیار کیا کہ فلسطینیوں کو کسی دوسرے ملک میں شفٹ کرنا ہر حال میں خارج از امکان ہے۔ یہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہوگا۔ ہم فلسطین کے ناقابلِ تنسیخ حق (اپنی سرزمین پر) پر دست اندازی کی ہر کوشش مسترد کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کی کوشش پر مصری سڑکوں پر نکل آئیں گئے۔ (اور ایک زبردست مظاہرہ ٹرمپ پر لعن طعن کرتا ہو بھی چکا!) عرب وزراء نے بین الاقوامی کانفرنس، یواین کے ساتھ بلانے کا ارادہ ظاہر کیا جو غزہ کی تعمیرِ نو پر بات کرے گا۔ سوٹرمپ کے اس غبارے سے بھی ہوا نکل گئی۔ رپورٹروں نے جب پوچھا کہ غزہ کیونکر خالی ہوگا تو ٹرمپ نے تکبر سے گردن اکڑا کر 3 مرتبہ زور دے کر کہا:( مصر، اردن) وہ ایسا ہی کریں گے! حالانکہ قدس کی سرزمین چھوڑنا تو دو سالہ فلسطینی بچے کی لغت میں بھی نہیں۔ یہ نا ممکن ہے! مگر عرب ممالک، اخوانی جہادی مر مٹنے والے فلسطینی حافظوں، اسلام پسندوں کو اپنے ہاں کیونکر لا بسائیں گے؟ مصر سارے اخوانی، جیلوں، عقوبت خانوں میں ٹھونس کر بھی لرزاں و ترساںرہتا ہے! اندازہ تو کیجئے ان شیروں کی عزیمت کا !لا زوال قربانیوں پر بھی مسکراتے چہرے! ملبوں، کھنڈروں میں واپسی پرشکر گزاریوں سے پُر اور مسرور ہیں!
اسرائیل نے کہا تھا، ’جنگ کے بعد کا دن حماس کے بغیر ہو گا اور حماس کا وجود باقی نہ رہے گا!‘ اور ادھر؟ پھول ہیں صحرا میں یا ’شہزادے‘ قطار اندر قطار! معجزہ ہے کہ بشاش مضبوط مجاہدینِ قسام قیدیوں کی حوالگی کے لیے آئے تو (اسرائیل سے طوفانِ اقصٰی میں چھینی) شاندار گاڑیوں کے قافلے، چمکتے یونیفارم، صحت مند مسرور قیدی جو ’دشمن ‘کے حسن سلوک اور اخلاق کی بلندیوں پر متمکن حماس کے گواہ تھے! دہشت گردی کے نام پر 20 سال دنیا کے دماغوں میں بھوسہ بھر کر مسلمانوں کو بدنام کرنے والے، اپنے گریبان میں جھانکیں۔ غزہ، شام کے ملبوں، قبرستانوں، قیدیوں سے بدسلوکی میں درندگی! دنیا نے سب دیکھ، جان لیا۔ مغرب میں ہر ایک فلسطینی کی شہادت کے عوض 5 افراد مسلمان ہونے کی اطلاع ہے! سات عظیم شہداء قائدین کے نام اور احوال ’القسام‘ نے جاری کیے۔ ان کی زندگیاں صحابہؓ سے مشابہ اور اسلامی تاریخ کی لازوال انمول شخصیات ہی کا تسلسل ہیں۔ ایسے ہی قائدین غزہ کی ماؤں کی گود میں پلتے ہیں شیخ احمد یٰسین ؒتا ابو خالد محمد الضیفؒ و یحییٰ سنوارؒ! مقابلہ کر دیکھئے ہٹلر سلوٹ کرنے والے سفید فام برتری والے قارون اور فرعونِ دوراں، ڈونلڈ ٹرمپ سے یا نتین یاہو جنہیں دجال کی گھٹی ملی لگتی ہے!
ٹرمپ کا ایک اور اقدام، جو اسی پر الٹ گیا، یہ تھا کہ میکسیکو، کینیڈا، چین سے درآمدات پر یکایک بھاری محصول (ٹیکس) عائد کر دیا۔ میکسیکو اور کینیڈا کے جواباً امریکی درآمدات پر ٹیکس کے بعدٹرمپ نے فیصلہ مؤخر کر کے مذاکرات! چین نے ا مریکی کاروائی کے چند منٹ اندر جوابی ٹیکس اور پابندیاں عا ئد کر دیں۔امریکہ پہلے ہی ان تین ممالک کا 36 کھرب ڈالر کا مقروض ہے! یورپ بھی جوابی اقدامات کر رہا ہے۔امریکہ میں مہنگا ئی اور عالمی تجارتی جنگ کا سلسلہ چل پڑا ہے! ٹرمپ اب چینی صدر سے بات کرنے کو ہے تاکہ….
پاکستان کو ہمہ وقت سوئے امریکہ دیکھنے کی بجائے سورۃ القلم 16 – 10، پڑھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک کردار اللہ دکھاتا ہے اور اس کے آگے دبنے، جھکنے سے منع فرماتا ہے۔ یہ کہہ کر کہ: ’ایسے آدمی کی دھونس قبول نہ کرو!‘ اس کے اوصاف؟ مال و اولاد والا ہے، سخت بخیل، حقیر و ذلیل، بے وقعت، بھلائی سے روکنے والا، ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والا، بد اعمال، جفا کار!
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
کلیدی لفظ: ٹرمپ کا
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو