ٹل سے 100 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پارا چنار پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
ٹل سے 100 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پارا چنار پہنچنا شروع ہوگیا، اشیاء ضروریہ کی گاڑیاں پارا چنار پہنچ گئی ہیں۔ٹل سے پارا چنار 100 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاراچنار پہنچنا شروع ہوگیا، تاجر برادری کے مطابق مرغی، انڈے، پھل اور سبزیوں کی گاڑیاں پارا چنار پہنچ گئی ہیں۔قافلے میں خوردونوش ، ادویات ، پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء شامل ہیں، ٹل پاراچنار مین شاہراہ پر قافلہ کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔پیٹرول ایسوسی ایشن پارا چنارکے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے گاڑیوں کو ہنگو میں روک کر جانے نہیں دیا گیا.
قبل ازیں ٹل سے 120 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاراچنار پہنچا تھا، قافلے میں اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔تاجر برادری کے مطابق قافلے میں اشیائے خورد و نوش، پھل، سبزیاں اور دیگر اشیا چھوٹی بڑی تمام گاڑیاں باحفاظت پہنچی تھی.دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے مطابق قافلے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پارا پارا چنار کے مطابق
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔