ایس آئی ایف سی کے تحت گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو (جی سی آئی) کی کوششوں سے زرعی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔

جی سی آئی کی معاونت سے روایتی زراعت سے کارپوریٹ طرز کی زراعت کی طرف اہم قدم بڑھایا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب کے جدید آبی انتظام سے زرعی پیداوار کے لیے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آرمی چیف نے تاجر برادری کو ایس آئی ایف سی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دیدی

جی سی آئی  کی کامیاب حکمت عملی، کسانوں کو معیاری کھاد اور بیج فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

زرعی شعبے کی ترقی اور جدت سے آگاہی کے لیے حکومتی شخصیات کے ماڈل فارمز کے دورے اور گرین پاکستان  انیشی ایٹو کی جانب سے کارپوریٹ فارمنگ میں استعمال ہونے والی جدید زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی کی نمائش کا اہتمام بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایس آئی ایف سی کا گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو، ملکی زراعت ترقی کی جانب گامزن

اس سلسلے میں پیرووال اور مظفرگڑھ میں تیار کردہ ماڈل فارمز کسانوں کو جدید زرعی تکنیکوں سے آگاہی فراہم کریں گے جس سے ان کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

model farms SIFC ایس آئی ایف سی زراعت؎ ماڈل فارمز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی ماڈل فارمز ایف سی

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی

 محمدخورشیدرحمانی:وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

 کراچی کے سہراب گوٹھ میں واقع پنجاب بس اڈے پر مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز اور عملہ شدید پریشان ہے۔

بس ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ پنجاب جانے والے مسافروں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو گاڑیاں چلانا معاشی طور پر ممکن نہیں رہے گا اور انہیں بسیں بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب

ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے نہ صرف سفری اخراجات بڑھ گئے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کا پورا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام اور ٹرانسپورٹ شعبے کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرے۔

ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی لائے اور عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف فراہم کرے، تاکہ ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر نہ ہو اور مسافروں کو بھی سستی اور آسان سفری سہولیات میسر رہیں۔

پی ایچ اے کی شہر میں پلانٹس فری ہوم ڈیلیوری مہم جاری

متعلقہ مضامین

  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم