نئی دہلی/واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری ۔2025 )بھارتی وزیراعظم نریندرمودی آج وائٹ ہاﺅس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق نئی دہلی درآمدی محصولات کو کم کرنے‘ غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کو واپس لینے اور امریکی تیل خریدنے پر رضامندی کا اظہار کرچکا ہے اور دونوں راہنماﺅں کے درمیان ملاقات سے پہلے ہی بھارت کچھ مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں کمی کر چکا ہے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے امریکہ سے ڈی پورٹ ہونے والے اپنے 104 غیر قانونی شہریوں کو واپس لے چکا ہے.

(جاری ہے)

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی کے دورہ امریکہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے باوجود لین دین یعنی تجارت کا پہلو نمایاں ہو گا خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ کے پاس اس حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کے سامنے رکھنے کے لیے امریکی مطالبات کی طویل فہرست ہے مودی کی موجودہ کابینہ کے بہت سے وزرا ان کی پچھلی مدت اقتدار کے دوران بھی خدمات انجام دے رہے تھے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے دور سے بخوبی واقف ہیں یہ شناسائی پچھلے مہینے ٹرمپ کے بطور صدر حلف اٹھانے کے بعد سے ظاہر ہونے لگی ہے اور دہلی میں راہنماﺅں نے عوامی طور پر دہلی کی جانب سے اٹھائے گئے اِن پیشگی اقدامات کا مقصد ٹرمپ کو بھارت سے مخصوص مطالبات کرنے سے روکنا اور نئی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تناﺅ کے امکانات کو کم کرنا ہے.

امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم مودی سے محصولات میں مزید کمی کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں تاکہ بھارت کے ساتھ امریکی اشیا اور خدمات کے تجارتی خسارے کو دور کیا جا سکے جو کہ حالیہ برسوں میں 46 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے لیکن یہ چیز دہلی کے لیے ایک موقع بھی بن سکتی ہے مودی ٹرمپ سے اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دو طرفہ بات چیت کے لیے کہہ سکتے ہیں جس کا مقصد دونوں طرف سے محصولات کو کم کرنا ہو گا.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں دہلی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن انتظامیہ کے مقابلے میں بات چیت کے لیے زیادہ رضامند ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ بائیڈن انتظامیہ نے نئے تجارتی معاہدوں پر ماحولیات اور مزدوروں کی صورتحال سے متعلق بھاری شرائط عائد کی تھیں ٹرمپ مودی سے مزید غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کو واپس لینے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ کچھ اندازوں کے مطابق امریکہ میں غیرقانونی بھارتی شہریوں کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا تیسرا سب سے بڑا گروہ ہیں تاہم دہلی کے لیے بڑی تعداد میں تارکین وطن کو واپس لینا ایک مشکل اور نازک مسئلہ ہو گا.

پچھلے ہفتے جب غیر قانونی تارکین وطن کی پہلی کھیپ ہتھکڑیوں‘ بیڑیوں میں اور امریکی فوجی طیارے پر سوار بھارت واپس پہنچی تھی تو ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر کافی شور برپا ہوا تھا اس پر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ہندوستانی حکومت امریکہ کے ساتھ بات کر کے اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ بھارتی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی نہ کی جائے ٹرمپ مودی سے مزید امریکی تیل خریدنے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں سال 2021 میں امریکی تیل کی برآمدات میں بھارت سرفہرست تھا لیکن یوکرین پر روسی حملے نے تیل کی عالمی منڈیوں میں بڑی تبدیلیاں کیں اور دہلی نے اپنے قریبی پارٹنر روس سے سستے تیل کی درآمدات کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ایسے میں امریکی تیل کی قیمت اس بات کا تعین کرے گی کہ بھارت امریکہ سے کتنا تیل خریدنے کو تیار ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کر سکتے ہیں بھارت جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری چاہتا ہے دہلی اپنی جوہری ذمہ داری کے قانون میں ترمیم کر رہا ہے اور اس نے ایک نئے جوہری توانائی مشن کا اعلان بھی کیا ہے دہلی 2030 تک قابل تجدید توانائی کے ذریعے اپنی نصف توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا چاہتا ہے ٹرمپ سے جوہری ایندھن میں سرمایہ کاری کرنے کا کہنا ایک ممکنہ خوش کن امر ہے کیونکہ یہ پیٹرول وغیرہ سے زیادہ صاف متبادل ہے لیکن یہ شمسی اور ہوا کے ذریعے حاصل کی جانے والی توانائی سے بہت دور ہے اور یہ بات ٹرمپ انتظامیہ کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہو سکتی ٹیکنالوجی کا شعبہ بائیڈن کے دور میں بھارت اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں تیزی سے بڑھنے والا شعبہ تھا اور یہ 2022 میں ”انیشیٹو آن کریٹیکل اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز‘ ‘ کے نفاذ کی بدولت تھا اسے دونوں فریق سٹریٹجک شراکت داری کے لیے ایک نئے سنگِ میل کے طور پر دیکھتے ہیں آئی سی ای ٹی براہ راست دو قومی سلامتی مشیروں کی نگرانی میں تھا تاکہ بیوروکریسی کے چکر میں پھنسنے سے بچا جا سکے اس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں ممالک اس میں سرمایہ کاری کریں گے.

بھارتی وزیراعظم مودی ممکنہ طور پر ٹرمپ اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز سے یقین دہانی چاہیں گے کہ وہ اس معاہدے پر کاربند رہیں چین کا مقابلہ کرنے پر واشنگٹن کی توجہ کو دیکھتے ہوئے وہ بھارت کو ٹیکنالوجی کی عالمی سپلائی چین کا ایک بڑا حصہ بنا کر شاید ایسا کریں گے ٹیک کوآپریشن کے معاملے میں مودی ٹرمپ کو ایچ1 بی ویزا نظام برقرار رکھنے کے لیے کہہ سکتے ہیں یہ ویزا انتہائی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے ہوتا ہے لیکن اس پر ٹرمپ کے کچھ بااثر حامیوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے اور یہ ویزا امریکہ میں بڑی تعداد میں بھارتی ٹیک ملازمین کو دیا گیا ہے.

واشنگٹن میں مودی کی بات چیت کے دوران ایران پر بات ہو سکتی ہے دہلی چابہار شہر میں ایک بندرگاہ تیار کرنے کے لیے تہران کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے یہ ایران اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے ساتھ رابطے کو مضبوط کرنے کی وسیع تر بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہے اس کے علاوہ بھارت ایرانی تیل کا بھی خریدار ہے. بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ نے ایک صدارتی میمورنڈم جاری کیا ہے جس میں تہران پر ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباﺅ والی مہم کا خاکہ پیش کیا گیا ہے اور اس میں چابہار میں تجارتی سرگرمیوں میں شامل ممالک کے لیے پابندیوں سے چھوٹ کو ہٹانے کا اشارہ دیا گیا ہے مودی اس بات کی وضاحت طلب کر سکتے ہیں کہ دہلی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے ٹرمپ اپنی وسیع تر خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے ضمن میں یوکرین اور غزہ میں جنگوں کو ختم کرنے پر مودی کی پوزیشن جاننا چاہیں گے ان جنگوں کو ختم کرنے میں دہلی کی گہری دلچسپی ہے مودی پوتن یا روس پر تنقید کیے بغیر تنازع کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ٹرمپ بھی وہاں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں.

روس کے ساتھ بھارت کے خصوصی تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ٹرمپ کو یہ دیکھنے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ آیا مودی بھی تیسرے فریق یا ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں مودی شاید صرف اس صورت میں ایسا کرنے میں آسانی محسوس کریں گے جب فریقین بھی بیرونی ثالثی کو قبول کریں لیکن آج ممکنہ طور پر بات چیت کے دوران نازک مرحلے آ سکتے ہیں لیکن ان باوجود دونوں رہنما مثبت لہجہ برقرار رکھنا چاہیں گے اس سلسلے میں انڈو پیسیفک کواڈ بھی زیر بحث آ سکتا ہے ٹرمپ اس گروپ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور یہ امریکہ‘بھارت‘ جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل چار فریقی گروپ ہے جس کی توجہ کا مرکز بیجنگ کا مقابلہ کرنا ہے.

واشنگٹن میں ولسن سینٹر کے جنوبی ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ اپنی پہلی مدت میں ٹرمپ نے کواڈ کی سالانہ میٹنگز کو وزیر خارجہ کی سطح تک محدود رکھا تھا لیکن بائیڈن نے انہیںسربراہوں کی سطح تک بڑھا دیا رواں سال بھارت کواڈ میٹنگ کی میزبانی کرنے والا ہے اور مودی اس میں شرکت کے لیے ٹرمپ کو دہلی مدعو کر سکتے ہیں مبینہ طور پر ٹرمپ بین الاقوامی سفر کے بہت پرستار نہیں ہیں لیکن مودی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو گہرا کرنے اور کثیر جہتی دو طرفہ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے شاید وہ بھارتی کا دورہ کرنے کے خواہاں ہوں گے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں سرمایہ کاری ٹرمپ انتظامیہ انتظامیہ کے کر سکتے ہیں تیل خریدنے شراکت داری امریکی تیل تارکین وطن بات چیت کے امریکہ کے کے دوران کہ بھارت ہے ٹرمپ کریں گے کے ساتھ ہے مودی کو واپس ٹرمپ کو کے لیے گیا ہے کے دور اور یہ ہے اور تیل کی

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟