لاہور: اینٹی کرپشن عدالت نے رمضان شوگر مل میں وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
اینٹی کرپشن عدالت کے جج سرداد اقبال ڈوگر نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا کہ اس کیس میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو سزا کا امکان نہیں، دونوں کی بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، مقدمے کے دیگر گواہوں کو ثبوت کی عدم دستیابی کے باوجود سننا بے سود ہوگا۔
عدالتی حکم نامے میں لکھا گیا کہ مدعی مقدمہ کے مطابق اس نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف نیب کو کوئی درخواست نہیں دی، نالے کی تعمیر کے لیے تمام قانونی ضابطے پورے کیے گئے تھے، اینٹی کرپشن، رمضان شوگر مل نالے کی تعمیر میں بے ضابطگی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ شہباز شریف کی جانب سے نالے کی تعمیر کے لیے ڈائریکٹو اس وقت کے ایم پی اے کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا، شہباز شریف کبھی رمضان شوگر مل کے ڈائریکٹر نہیں رہے، نالے کی تعمیر کے وقت حمزہ شہباز کی رمضان شوگر مل کے سی ای او نہیں تھے، کسی گواہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ایک لفظ کی گواہی بھی نہیں دی، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو رمضان شوگر مل کرپشن کیس سے بری کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 18 فروری 2019 کو نیب نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں ریفرنس دائر کیا تھا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر شوگر ملز کے لیے گندے نالے کو 21 کروڑ روپے سے قومی خزانے کے ذریعے تعمیر کروانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شریف اور حمزہ شہباز شہباز شریف اور شہبازشریف اور نالے کی تعمیر رمضان شوگر مل

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری