راولپنڈی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 13 فروری 2025ء ) عمران خان نے آرمی چیف کے نام پیغام میں کہا ہے کہ سیاسی و معاشی استحکام اور ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج کم ہو، فوج اور عوام کے درمیان بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ فوج اپنی آئینی حدود میں واپس جائے، سیاست سے خود کو علیحدہ کرے اور اپنی متعین کردہ ذمہ داریاں پوری کرے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل سے آرمی چیف کے نام تیسرا کھلا خط لکھا گیا ہے۔ اپنے خط میں عمران خان کا کہنا ہے کہ " میں اپنی ذات کے لیے کوئی ڈیل یا اپنی جماعت کے لیے کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہا- بطور سابق وزیراعظم اور محب وطن پاکستانی مجھے صرف اپنی فوج کی ساکھ کی بحالی اور وطن عزیز کا مفاد مقصود ہے۔

(جاری ہے)

اس امر کے باوجود کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اورروزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے باعث عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے۔ میں آئی ایس پی آر سے کہتا ہوں کہ جھوٹا بیانیہ نہ دیا کریں۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، قوم کی عقل کی توہین ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی چیز نہیں چھپ سکتی، ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ آرمی چیف ہی اس ملک کا نظام چلاتے ہیں۔

انتخابات میں دھاندلی ہو یا اراکین پارلیمینٹ کی خرید و فروخت، عدلیہ کی تباہی ہو یا عوامی رائے دہی پر قدغن کے کالے قانون، ناصرف ہماری باشعور قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سے "نامعلوم” ہاتھ کارفرما ہیں۔ لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ غلط بیانی سے گریز کیا کریں کیونکہ یہ صرف من حیث الادارہ فوج کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔

میں پانچ نکات پر روشنی ڈالوں گا جس کی وجہ سے پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے: ۱- دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قوم کی جانب سے مسترد شدہ چہروں کو ملک پر مسلط کرنا: اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی وجہ سے ملک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی چند سال قبل تک جن کی سرے محل اور مے فئیر فلیٹس جیسی بے شمار کرپشن کی داستانیں قوم کو سنائی جا رہی تھیں، انہی کے لیے پوری ریاستی مشینری اور ایجینسیز کو استعمال کر کے ناصرف قبل از انتخابات بدترین دھاندلی کی گئی بلکہ پولنگ ڈے اور اس کے بعد بھی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا اور ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔

یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری پر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دور میں نیب کے کوئی کیسز نہیں بنائے گئے- انٹیلی جنس ایجینسیوں نے انکی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کئے- جنرل احتشام ضمیر اور فاروق لغاری نے ان کے اربوں روپے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ڈوزئیر دئیے تھے کہ یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں- نیب تو ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں تھا، جنرل باجوہ نیب کو کنٹرول کرتا تھا- انکے خلاف تمام کیسز ہمارے دور سے پہلے بنائے گئے- ہمارے دور میں صرف شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی والا رمضان شوگر مل کیس بنا- اس کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

قوم نے دیکھا کہ انھی نیب زدہ چہروں کو ڈیل کی ڈرائی کلین مشین سے گزار کر دوبارہ پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دینے کے اس عمل سے ملکی معیشت کو ۱۱۰۰ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس فراڈ کے تانے بانے ملائیں تو تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ایک ہی ہاتھ کی طرف جاتی ہیں اور اسکا سارا نزلہ فوج پر گر رہا ہے- ۲ - جمہوریت کا خاتمہ: جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے- حکومت کے پاس اخلاقی قوت ہو تو ہی جمہوریت چل سکتی ہے- 30 سال لگا کر پاکستان میں رفتہ رفتہ جمہوریت کی کچھ بحالی ہوئی تھی، عدلیہ مسلسل جدوجہد سے خودمختار ہوئی تھی اور میڈیا کچھ آزاد ہوا تھا اور ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا۔

لیکن پہلے سازش سے ہماری حکومت کو ہٹایا گیا، پھر ناصرف ایک جعلی حکومت کو مسلط کیا گیا بلکہ ان کو دوبارہ ملک پر مسلط کرنے کے لیے آئین توڑا گیا، انتخابات ملتوی کیے گئے، الیکشن سے پہلے ہر حربہ آزمایا گیا، قاضی فائز عیسٰی کے ذریعے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمارے ترجیحی امیدواروں کو میدان سے ہٹوایا گیا، حتیٰ کہ الیکشن کمپین تک نہیں کرنے دی گئی- یہ سب کرنے کے باوجود جب الیکشن میں پاکستانی عوام نے ہمیں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستوں پر کامیاب کیا تو فارم 47 کے ذریعے رزلٹ تبدیل کر کے صرف 17 سیٹیں جیتنے والی پارٹی کو ملک پر مسلط کر دیا- اور اس انتخابی فراڈ کو چھپائے رکھنے کے لیے اور تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش میں جمہوریت کو مکمل طور پر پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔

الیکشن آڈٹ کے خودمختار ادارے “پتن” کی رپورٹ اس سلسلے میں سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کیسے اس ملک میں جمہوریت کا نقصان کر کے دھاندلی کے 64 نئے طریقے اپنائے گئے۔ میڈیا پر بدترین قدغنیں لگا کر اور انسانی حقوق کو پامال کر کے جمہوریت کے تمام ستونوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے نمائندگان چننے کا حق نہیں ہے۔ الغرض جمہوریت کے تمام بنیادی ستون بشمول خودمختار عدلیہ، حق آزادئ رائے، آزاد میڈیا اور انسانی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔

اس سب کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچلنے اور الیکشن ڈاکے پر پردہ ڈالنے کی قبیح کوشش کارفرما ہے۔ ‏۳- ترجیحات کی غلط سمت: ساری دنیا آگے کی جانب سفر کرتی ہے مگر ہم مخالف سمت میں گامزن ہیں۔ پاکستان کو Deep Structural Reforms ( بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات) کی ضرورت ہے، جس میں اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی، اقتصادی ترقی، آمدن میں اضافہ، اخراجات میں کمی، بڑھتی آبادی کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، سماجی تحفظ، امن و امان اور ملک میں نئی سرمایہ کاری لانا شامل ہیں۔

اداروں کی مضبوطی میں ہی ملکی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ یہ کام مشکل ہے اور صرف وہی حکومت کر سکتی ہے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو اور جس کے پاس اخلاقی طاقت (moral authority) ہو- اصلاحات کرنا این آر او اور جعلسازی سے اقتدار لینے والوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہاں جعلی پارلیمنٹ ہے، جعلی ایم این ایز ہیں، جعلی وزیر اور جعلی صدر ہے!! ان کا ایجنڈا صرف (reign of terror) خوف و ہراس پھیلا کر اپنے تسلط کو برقرار رکھنا ہے۔

ملک میں استحکام تب آتا ہے جب قانون کی حکمرانی ہو اور جمہور کو آزادی حاصل ہو۔ یہاں تو اکیسیوں صدی میں یہ حال ہے کہ انٹرنیٹ تک بندش کا شکار ہے۔ آئی ٹی کے اس دور میں لوگ نہ صرف تعلیمی و سماجی بلکہ معاشی طور پر بھی انٹرنیٹ پر منحصر ہیں۔ اس کے منقطع ہو جانے سے پہلے سے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی معیشت کو مزید زد پہنچ رہی ہے۔ “ورلڈ جسٹس پراجیکٹ” کے رول آف لأ انڈیکس میں ہم چھبیسویں ترمیم کے بعد صرف گنتی کے چند ممالک سے آگے ہیں۔

“دی اکانومسٹ” کے انٹیلیجنس یونٹ کے “Democracy Index” میں ہم ہائبرڈ نظام سے آمرانہ/ استبدانہ نظام کی جانب گامزن ہیں۔ اسی طرح ملک میں امن صرف تب آئے گا جب اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات کی پالیسیوں کو بہتر کریں گے اور پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنائیں گے۔ ہماری افغانستان کو لے کر پالیسی سنجیدہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمیں دہشتگردی کے بڑھتے ناسور کا سامنا ہے۔

۴- ہنرمند پاکستانیوں اور سرمائے کی ملک سے باہر منتقلی: پاکستان میں جاری ظلم و جبر کے ماحول اور لاقانونیت سے عوام شدید مایوس ہے۔ سرمایہ کار اور ہنرمند افراد جوق در جوق بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ دو سال کے عرصے میں تقریباً 17 لاکھ افراد کے بیرون ملک منتقل ہونے سے ملکی معیشت کو اندازاً 15 سے 20 ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔

گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملک میں غربت اور بےروزگاری عروج پر ہے- لوگ ہر حال میں ملک سے باہر جا رہے ہیں، آئے روز لوگوں کے ڈوبنے کی خبر آتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں مایوسی کس قدر عروج پر ہے۔ ۵- ملک میں انسانی حقوق کی پامالیاں: ملک میں ہر جانب فسطائیت کا بازار گرم ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی معطلی، اور حرمتوں کی پامالی سمیت وہ سب کچھ ہو رہا ہے جو مشرقی پاکستان میں کیا گیا تھا اور سقوط ڈھاکہ جیسا سانحہ وقوع پذیر ہوا۔

آٹھ فروری کو ایک بار پھر ہمارے احتجاج کو ناکام بنانے کی کوشش میں ملک بھر میں چھاپے مار کر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پنجاب پولیس شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار بن کر بدمعاشی پر اتری ہوئی ہے۔ وزیرآباد میں پولیس نے ہمارے ایک کارکن کا جنازہ تک نہیں پڑھنے دیا۔ نو مئی اور 26 نومبر جیسے سانحات میں ریاست کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر بھی کوئی ایکشن نہیں ہوتا تو اس ملک میں کسی کو انصاف ملنا ممکن نہیں ہے۔

9 مئی اور 26 نومبر کو ہمارے نہتے، جمہوریت پسند کارکنان پر ظلم و تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ پر امن شہریوں پر سیدھی گولیاں چلا کر شہید کیا گیا۔ سیاسی انتقام کی آڑ میں تین سال میں ایک لاکھ سے زائد مرتبہ شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ہمارے 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کو گرفتار کیا گیا اور سینکڑوں کو اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہزاروں بےگناہ لوگوں کو کئی کئی ماہ جھوٹے کیسز میں جیلوں میں رکھا گیا- لوگوں سے سیاست کرنے کا حق چھینا گیا۔

سویلنز کو ملٹری حراست میں دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں جو انسانی حقوق کا حال تھا اب پورا ملک اس کی لپیٹ میں ہے۔ میرے کیسز کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کیے جا رہے ہیں- میرے وکلاء کو جیل ٹرائل میں جانے نہیں دیا جاتا اور صحافیوں کو بھی اپنی من مرضی سے اندر بھیجا جاتا ہے۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کیونکہ پاکستان میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد نظام عدل کا مکمل طور پر جنازہ نکل چکا ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چل رہا ہے۔

لوگوں سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔ اس دلدل سے جب تک پاکستان کو نہیں نکالا جائے گا تب تک ملک آگے نہیں بڑھے گا- ‏مندرجہ بالا نکات پر غور و خوض اور ان کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ کا اپنی پالیسیوں کو فوری تبدیلی کرنا، وقت کی ضرورت ہے تاکہ بطور ادارہ فوج کی بدنامی کا عمل رک سکے۔ ملکی خزانہ لوٹ کر بیرون ملک ڈھیر لگانے والی اشرافیہ کا کیا ہے، وہ تو اگلی پرواز سے ملک سے نکل جاتے ہیں۔

پورا نظام اور اس کی توانائیاں اس ٹولے کو بچانے پر صرف کرنے کی بجائے اپنی ترجیحات درست کرنے اور ان 24 کروڑ پاکستانیوں کا سوچنے کی ضرورت ہے، جن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اور اپنی غلطیوں سے سیکھ کر تمام اقدامات اور پالیسیز کو آئین و قانون کے دائرے میں لانا پاکستان کی بقاء اور ترقی کا واحد راستہ ہے- سیاسی و معاشی استحکام اور ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی متعین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصطلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔

".

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فوج اور عوام کے درمیان پاکستان میں کر دیا گیا ہے کہ فوج کے ذریعے کیا گیا اور ملک نہیں ہے ملک میں کی جانب کے لیے ہے اور سے ملک اور ان اور اس رہا ہے گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی

پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز


جدہ (خالد نواز چیمہ) پاکستان کے قونصل جنرل برائے جدہ سید مصطفیٰ ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے اور زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافے کے لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو مربوط، مؤثر اور عملی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قونصلیٹ جنرل پاکستان، جدہ پاکستانی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی ہر ممکن رہنمائی اور تعاون کے لیے ہمیشہ دستیاب ہے، جبکہ قونصلیٹ کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔
وہ پاکستان انویسٹر فورم (PIF) کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ و عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں سعودی عرب میں مقیم ممتاز پاکستانی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، کمیونٹی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے کہا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی ترقی کے حوالے سے دنیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے لیے شفاف، محفوظ اور جدید نظام قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو اس سازگار ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کو وسعت دینی چاہیے تاکہ نہ صرف وہ اپنی کامیابیوں میں اضافہ کریں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کے ذریعے قومی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے پاکستان انویسٹر فورم سعودی عرب کے چیئرمین چوہدری شفقت محمود کو عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں فورم سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو مزید منظم، متحد اور فعال بنائے گا اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ انہوں نے فورم کے ساتھ مکمل تعاون اور مضبوط رابطوں کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر پاکستان انویسٹر فورم سعودی عرب کے چیئرمین چوہدری شفقت محمود نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرنا فورم کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی وژن کے تحت حال ہی میں ریاض اور مشرقی صوبہ (دمام) میں پاکستان ایگزیکٹو فورم کو فعال کیا گیا ہے، جس کے چیئرمین منیر احمد شاد مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انویسٹر فورم (PIF)، ریاض، مشرقی صوبہ (دمام) اور پاکستان ایگزیکٹو فورم کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے سعودی عرب بھر کے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر باہمی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
چوہدری شفقت محمود نے بتایا کہ فورم کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں 124 ملین، 38 ملین، 7 ملین اور 3 ملین مالیت کے متعدد اہم کاروباری معاہدے طے پا چکے ہیں، جو پاکستانی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور فورم کی کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں پاکستان انویسٹر فورم کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سوڈان کا دورہ کیا، جہاں معدنیات، توانائی، زراعت، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر اعلیٰ حکام سے تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ ہونے والے آن لائن اجلاس میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے زراعت، سیاحت، معدنیات، توانائی، آئی ٹی اور دیگر ترقی پذیر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان انویسٹر فورم کے سیکریٹری جنرل عبدالخالق لک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک مضبوط، منظم اور خوشحال پاکستانی کمیونٹی ہی کسی بھی ملک میں کامیاب قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت، رہائشی منصوبوں، نوجوانوں کی فنی تربیت، کاروباری رہنمائی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود، باہمی اتحاد، مثبت سوچ اور مشترکہ ذمہ داریوں کے احساس سے ہی مضبوط اور باوقار کمیونٹی تشکیل پاتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان انویسٹر فورم سعودی عرب پاکستانی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے، پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، برآمدات بڑھانے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری مستقبل میں دونوں ممالک کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی۔
۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی اگلی خبربرطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران