زور دار دھماکے کی آواز ،پاکستان اور بھارت میں آنے والے زلزلوں میں ایک چیز مشترک،مگر کیوں؟ اہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آنے والے زلزلوں میں ایک چیز مشترک تھی ، اور وہ ایک زور دار دھماکے کی آواز تھی جس نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ اسلام آباد میں گزشتہ رات آنے والے زلزلے کی شدت 4.8 جب کہ دہلی میں صبح چار شدت کا زلزلہ آیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق زلزلے کے دوران اس طرح کی گڑگڑاہٹ یا دھماکے جیسی آواز اکثر کم گہرائی میں آنے والے زلزلوں میں سنائی دیتی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جب زمین میں ہلچل پیدا ہوتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی ہائی فریکوئنسی وائبریشنز آواز کی لہروں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ دھماکے جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ زلزلہ جتنا زمین کی سطح کے قریب ہوگا اتنی ہی زیادہ توانائی خارج ہوگی اور اتنی ہی زیادہ آواز سنائی دے گی۔
دہلی زلزلہ زون فور میں واقع ہے، جو کہ ایک بلند خطرے والا زون تصور کیا جاتا ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس زون میں عام طور پر 5 سے 6 شدت کے زلزلے آتے ہیں جبکہ بعض اوقات 7 سے 8 شدت کے زلزلے بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شمالی بھارت اور ہمالیائی خطے میں زلزلے بھارتی اور یوریشین پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں آتے ہیں۔ یہ پلیٹیں مسلسل دباؤ برداشت کرتی ہیں اور جب یہ اچانک اپنی پوزیشن تبدیل کرتی ہیں تو زلزلہ آتا ہے۔عام طور پر وہ زلزلے جو زمین کی سطح کے قریب یعنی پانچ سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آتے ہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمسایہ ملک دہشتگرد عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے، ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت اسے دوبارہ فروغ دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ صوبے کی قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وفاق کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کیا۔
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے درمیان طویل فاصلے ہونے کے باعث ترقیاتی وسائل کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہے، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، جبکہ دیگر تینوں صوبوں نے بھی بلوچستان کا بھرپور ساتھ دیا، جو کسی احسان کے بجائے بھائی چارے کی مثال ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی صوبے کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے اور وسائل مختص کیے گئے، پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز جاری کیے ہیں۔
تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے کا حصہ ڈالا، کراچی سے چمن تک دورویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے، جس پر 300 ارب روپے لاگت آئے گی اور منصوبہ آئندہ دو برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، 2018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور ان کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے۔
وزیراعظم نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ افغان حکومت دہشتگرد عناصر کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور معرکۂ حق میں دشمن کو شکست فاش دی، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
پشاور ؛ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی لڑکے کا قتل، مقدمہ درج
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے لے جایا جائے اور قومی خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے۔