بھارت اس بار پاکستان سے نہیں جیت سکتا، مہا کمبھ میلے کے بابا نے دعویٰ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
بھارت کے مشہور مذہبی شخصیت، اور مہا کمبھ میلے کے بابا ابھے سنگھ، جنہیں ’آئی آئی ٹی بابا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے پاک بھارت کرکٹ میچ کے حوالے سے غیر متوقع دعویٰ کر دیا۔
یاد رہے کہ 23 فروری کو دبئی میں چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑا مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔ تاہم، اس اہم میچ سے قبل بابا ابھے سنگھ نے پیشگوئی کی ہے کہ اس بار بھارت، پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا۔
بھارتی میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بابا کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’چاہے ویرات کوہلی سمیت تمام کھلاڑی اپنی پوری طاقت جھونک دیں، تب بھی پاکستان ہی جیتے گا۔ میں نے کہہ دیا ہے، بس کہہ دیا ہے۔‘
ان کے اس بیان نے بھارتی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ لوگ ان کے دعوے کو حقیقت مان رہے ہیں جبکہ دیگر اسے محض ایک قیاس آرائی قرار دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی بابا کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے یا بھارتی ٹیم تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔