Nawaiwaqt:
2026-06-03@08:23:10 GMT

 چیمپئنز ٹرافی: پاکستان‘ بھارت ٹاکرا آج

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT

 چیمپئنز ٹرافی: پاکستان‘ بھارت ٹاکرا آج

لاہور (سپورٹس رپورٹر) آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی2025ء کے پانچویں میچ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج دبئی میں مد مقابل ہوں گی۔ میچ دن 2 بجے دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں شروع ہو گا۔ یہ میچ پاکستان کیلئے جیتنا ضروری‘ شکست کی صورت میں قومی ٹیم ایونٹ کی ٹاپ فور ٹیموں کی دوڑ سے باہر ہو سکتی ہے۔ شائقین بھی پرجوش ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی میں ہونے والے میچ کے دوران بارش کے خطرات ہیں۔ اتوار کی رات اور پیر کی صبح جزوی طور پر ابر آلود موسم اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔ماہرین موسمیات کا خیال ہے کہ اگر دبئی میں بارش ہوئی تو بہت کم وقت کیلئے ہوگی جس سے میچ متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔پاکستان ٹیم مینجمنٹ اور کپتان نے بھارت کیخلاف میچ کیلئے پلئنگ الیون فائنل کرلی۔ذرائع کے مطابق دو روزقبل کپتان اورٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کیساتھ میٹنگ کی اور کھلاڑیوں کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا۔ پہلا میچ کھیلنے والی ٹیم سے کسی کوڈراپ نہیں کیا جائیگا۔مینجمنٹ چاہتی ہے کہ اہم میچ سے قبل کسی کھلاڑی کا مورال خراب نہ ہو، صرف ایک تبدیلی کی جائیگی، انجرڈ فخر زمان کی جگہ امام الحق کو شامل کیا جائیگا۔ صوبائی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آج پاکستان ‘ بھارت میچ براہ راست دکھانے کیلئے بڑی سکرینیں لگائی جائیں گی۔ سندھ حکومت نے بھی میچ کیلئے کراچی سمیت سندھ بھر میں بڑی سکرینیں لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔میچ براہ راست دکھایا جائیگا۔ بھارت کے اوپنر اور نائب کپتان شبمن گل نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اچھی ہے اور بدقسمتی سے وہ اپنا پہلا میچ ہار گئے مگر پاکستان کوئی کمتر ٹیم نہیں۔ دونوں ٹیموں کے مقابلے ہمیشہ شائقین کیلئے بڑے ایونٹس ہوتے ہیں لیکن بطور کھلاڑی ہمارا کام میدان میں کارکردگی دکھانا ہے، میڈیا میں میچ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ان کا کام ہے۔ اس پر ہمارا کنٹرول نہیں۔ پاکستان کے خلاف یقیناً سنچری کرنے کا دل ہے‘کوشش ہوگی سنچری بنائوں حالانکہ ہر میچ میں بڑا سکور کرنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ دبئی کی پچ پر 280 یا 300 کا سکور بہت اچھا ہوگا اور اضافی خطرہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ون ڈے میں اوورز کافی مل جاتے ہیں، وکٹ پر موجود رہیں گے تو سکور بن جاتا ہے۔ پاکستان بھارت میچ سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہر میچ جیتنے کی کوشش کرتے ہیں، پچھلے میچ میں اوس نہیں تھی مگر بیٹنگ میں مشکل ضرور ہوئی تاہم اگر سٹرائیک روٹیٹ کریں تو جیتنا آسان ہوگا۔بھارت کیخلاف میچ کیلئے قومی ٹیم نے دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں پریکٹس کی تاہم بابراعظم شریک نہیں ہوئے۔ پاکستان ٹیم تیاری کیلئے سٹیڈیم پہنچی اور رنگ آف فائر میں پریکٹس کی۔بابر اعظم نے ہوٹل میں ہی فزیکل ٹریننگ کی۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بھی پاکستانی ٹیم کے پریکٹس سیشن کے دوران کرکٹ سٹیڈیم میں موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار