الف سے اللہ، ب سے بلوچستان، پ سے پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
اکثر لوگ سوچتے ہوں گے کہ ستتر برس ہو گئے اور ان برسوں میں کیا کچھ نہیں ہوا مگر بلوچستان نے ترقی نہیں کی۔ نہ وہ لاہور کی طرح روشن ہوا نہ کراچی کی طرح بزنس میں اس کا کوئی نام ہوا، نہ پشاور کی طرح وہ سیاسی طور پر بیدار ہوا۔ بسا اوقات لگتا ہے کہ ان قریباً آٹھ دہائیوں میں بلوچستان ایک جمود کا شکار رہا۔ نہ بیدار ہوا نہ ترقی کی نہ کاروبار میں نام بنایا نہ امن وہاں پر آیا۔ ایسا کیوں ہوا ؟ کون ہے اس خوبصورت خطہ زمین کے لوگوں کا قصور وار؟ بحیثیت پاکستانی ہمیں جاننے کا حق ہے کہ اس تنزلی کا الزام کس کو دینا ہے؟
سوال اتنا سہل نہیں کہ اس کا سیدھا سادا جواب ہو اور آپ کسی ایک پر الزام لگا کر اس کو مجرم ثابت کریں اور پھر بیک جنبش قلم اس خطے کی محرومیوں کا اختتام ہو جائے۔ اس سوال کے کئی پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو جغرافیائی ہے، ایک پہلو معاشی ہے، ایک سیاسی ہے، اور کہانی کا ایک سرا بین الاقوامی بھی ہے۔ ان سب پہلوں پر بات کریں تو بات سمجھ آ سکتی ہے۔ تنہا کوئی واقعہ، تنظیم یا ادارہ بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں پیش کر سکتا۔
جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ صوبہ اتنا بڑا ہے کہ رقبے کے اعتبار سے ملک کا چوالیس فیصد حصہ ہے اور آبادی کے اعتبار سے ملک کی صرف سات فیصد آبادی یہاں مقیم ہے۔ یہ مشکل علاقہ ہے۔ سنگلاخ پہاڑ، پانی کی قلت، انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اس علاقے کو مزید مشکل تر بنا دیتی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بلوچستان میں اب بھی ایسے علاقے ہیں جہاں بنی آدم نے کبھی قدم نہیں دھرا۔ گاڑی پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے چوبیس گھنٹے سے زیادہ بھی درکار ہو سکتے ہیں۔
ہم نے ابھی تک نہ پنجاب میں تمام سڑکیں بنائیں نہ سندھ کو تعلیم کی روشنی سے منور کیا نہ کے پی کے میں صحت کی تمام سہولیات بہم پہنچائیں تو یہ بات تو واضح ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں آبادی بہت کم ہے وہاں کی سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر کسی کی توجہ کم ہی رہی ہے۔
ترقی کے بنیادی مدارج سے بہت دور بلوچستان ہے۔ جغرافیے کے ماہر بتاتے ہیں کہ پاکستان کے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر بھی بلوچستان میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا مشکل ہے۔ بہتر ہے کہ وہ بلوچ علاقے جہاں آبادی زیادہ ہے وہاں بلوچوں کی بڑی آبادیاں تعمیر کی جائیں اور ترقی کی شمع روشن کی جائے مگر اس سے تمام مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
اس معاملے کا ایک معاشی پہلو بھی ہے کہ آبادی کم ہے۔ ترقی کا فقدان ہے، ذرائع محدود ہیں اس وجہ سے ملکی خزانے میں بلوچستان زیادہ حصہ ڈالنے سے قاصر رہتا ہے۔ بجٹ کو دیکھیں تو ملکی خزانے میں بلوچستان جو حصہ ڈالتا ہے اس سے کئی سو گنا زیادہ وفاق بلوچستان کے خزانے میں ڈالتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد بلوچستان کو اس کا حصہ پورا ملتا ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان کی محرومیاں دور نہیں ہوتیں۔ اس کے جواب کو جاننے کے لیے اس قضیے کے سیاسی پہلو پر غور کرنا ضروری ہے۔
بلوچستان قیام پاکستان سے ہی سیاسی انتشار کا شکار رہا۔ خان آف قلات کا معاملہ ہو، ایوب کے خلاف شورش ہو، بھٹو صاحب کا نیپ پر کریک ڈاؤن ہو ، بلوچ سرداروں کی آپس میں جنگ ہو، ستر کی دہائی میں بگٹی صاحب کے بلوچوں پر مظالم ہوں، مشرف دور میں اکبر بگٹی کا قتل ہو، یا پھر حالیہ علیحدگی پسند تحریکیں ہوں۔ بلوچستان سے سب نے فائدہ اٹھایا مگر بلوچستان کو فائدہ پہنچانے والے کم رہے۔ افلاس، بے روزگاری اور پسماندگی کے بیچ میں دھنسا یہ خطہ بہت سی محرومیوں کا شکار رہا۔ ہر کسی نے اس سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس عمل میں بلوچ سیاست دان اور سردار بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔
اس معاملے کا بین الاقوامی پہلو یہ ہےکہ ہم جس محاذ پر کمزوری دکھاتے ہیں وہ دشمن کے لیے ’موقع‘ بن جاتا ہے۔ بلوچستان میں بھی بہت سی ایسی بین الاقوامی قوتوں کی در اندازی رہی ہے جو پاکستان دشمن ہیں۔ بلوچستان کی اہم جغرافیائی حیثیت کےاعتبار سے نہ بھارت کو اس کا سکون قبول ہے نہ افغانستان کو اس کی ترقی سے کوئی لگاؤ ہے۔ اور ایران کےا س خطے میں اپنے ہی عزائم ہیں۔ ان بین الاقوامی طاقتوں میں پھنسا ارض پاک کا یہ ٹکڑا سازشوں کا شکار بھی رہا اور محرومیاں بھی اس کا مقدر بنیں۔ بلوچستان کو کسی نے ترقی نہیں کرنے دی۔ گوادر کی بین الاقوامی معاشی اور جغرافیائی حیثیت ہمارے دشمنوں کو قبول نہیں۔ ان کی چیرہ دستیوں کا سلسلہ آئے روز ہمارے ماتھے پر خون لکھ جاتا ہے۔
پاکستان بہت خوش قسمت بھی ہے کہ دنیا جہان کے قدرتی ذخائر، مناظر، موسم اور اجناس ہم کو قدرت نے عطا کیے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اللہ کی اس حسین امانت کو سنبھال کر نہیں رکھ پا رہے ہیں۔ اس سرزمین سے وہ لوگ اٹھتے رہے ہیں جو بیرونی ایجنڈے پر چلتے اور اس خطے کو برباد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بی ایل اے جیسی نفرت انگیز تحریکیں ہمارے ماتھوں پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ آئے روز پنجابیوں کا قتل اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا اس پر خاموش رہنا اور پھر انسانی حقوق کا واویلا کرنا اس سوچ کو ترویج دیتا ہے جو پاکستان مخالف ہے۔
ماضی کا ماتم بہت ہو چکا، اب مستقبل کی بات کرنی چاہیے۔ سعودی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کی نوید بلوچستان کے روشن مستقبل کی دلیل ہے۔ اس سے روز گار بھی بڑھے گا، معیشت کی ترقی کا پہیہ بھی چلے گا، انفرا سٹرکچر بھی بنے گا۔ افلاس بھی ختم ہو گا۔ اربوں ڈالر کی اس سرمایہ کاری کے معاہدے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں سے پچیس فیصد منافع بلوچستان کے حق کے طور پر بلوچوں کو ادا کیا جائے گا اور پچیس فیصد حکومت پاکستان کے خزانے میں جائے گا۔
اب بلوچستان کی محرومیاں دور ہونے کا اک امکان نظر آ رہا ہے۔ یاد رکھیں جو بھی اس سرمایہ کاری کے خلاف ہو گا وہ بلوچستان کی ترقی سے مخلص نہیں ہو گا۔ اپنے ہی پلوں کو مسمار کرنے والے، سرکاری املاک کو توڑ دینے والے، اپنے ہم وطنوں کو قتل کر دینے والے، ترقی کے ہر منصوبے کی مخالفت کرنے والے کسی اور کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ ان کو پاکستانی نہیں کہا جا سکتا۔
بلوچستان ہمارے جسم کا حصہ ہے۔ اس سرزمین میں بے شمار امکانات ہیں۔ اس کے پہاڑوں میں بہت سونا ہے۔ اس کے شہریوں کے ذہنوں میں بہت زرخیزی ہے۔ ترقی اس صوبے کا حق ہے۔ تو یقین رکھیے اگر یہ اللہ کی مرضی ہے اور ہمیں پاکستان سے محبت ہے تو بلوچستان کی محرومیاں یقیناً دور ہوں گی۔ اور اب دیر نہیں ہے کہ وہاں نفرت انگیز پراپیگنڈے کے بجائے محبتوں کا سفر شروع ہونے کو ہے ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں بین الاقوامی بلوچستان کے بلوچستان کی میں بلوچ نہیں ہو کا شکار کے لیے ہیں کہ
پڑھیں:
نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کہا کہ ان سے سیاسی یا انفرادی سطح پر کوتاہیاں ضرور ہوئی ہوں گی، تاہم حویلی کی تعمیر و ترقی میں کبھی غفلت نہیں برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی بجٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ ترقیاتی وسائل حویلی کے لیے مختص کیے، جو آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گئے تو پھر کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر
وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے حویلی کے لیے دانش اسکول منظور کیا، جو علاقے کے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دانش اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ عالمی معیار کی تعلیم، جدید رہائشی سہولتوں، کھیلوں اور دیگر تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ ایک ایسا منصوبہ ہے جہاں ایک ہزار طلبہ و طالبات بغیر کسی فیس کے تعلیم حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند برس بعد یہی بچے بہترین تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی قیادت کرنے کے قابل ہوں گے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ان کی حکومت نے لائن آف کنٹرول سے ملحقہ ضلع حویلی کو پہلی مرتبہ یونیورسٹی دی، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی آزاد کشمیر کا سب سے بڑا پیکج اسی ضلع کے لیے منظور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد فرسٹ ایڈ پوسٹیں، تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال اور دیگر طبی منصوبے حویلی میں شروع کیے گئے، حالانکہ ان منصوبوں پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60 برس میں جتنے ترقیاتی کام نہیں ہوئے، اس سے زیادہ کام موجودہ حکومت نے مختصر مدت میں کیے۔ ان کے مطابق ضلع میں درجنوں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی منظوری دی گئی، سائنس کالج قائم کیا گیا، جبکہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی پیکج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات، اسپیشل اور سینیئر سیکریٹری کے عہدے ختم، نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کے اہم اعلانات
وزیراعظم نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی ریکارڈ ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے آزاد کشمیر میں تعمیر ہونے والی تقریباً 500 کلومیٹر پختہ سڑکوں میں سے 100 کلومیٹر سے زائد صرف حویلی کے حصے میں آئیں، جبکہ اربوں روپے کی لاگت سے متعدد پل، دو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال، دو ٹاؤن کمیٹیاں اور بجلی کے شعبے کے بڑے منصوبے بھی اسی ضلع میں مکمل یا زیر تکمیل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حویلی کو ماضی میں ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہا۔ کبھی یہ ضلع باغ کا حصہ ہونے کی وجہ سے محرومی کا شکار رہا اور بعد میں ضلع بننے کے باوجود اسے اس کا جائز حق نہیں ملا، لیکن موجودہ حکومت نے اس محرومی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ وہ جب حویلی کی بات کرتے ہیں تو وہاں نہ پٹھان، نہ راجپوت، نہ کشمیری اور نہ گوجر ہوتے ہیں بلکہ سب سے پہلے حویلی کے شہری ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ برادری، قبیلے اور ذات پات سے بالاتر ہو کر علاقے کی ترقی کے لیے متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کے باوجود وہ انتخابی مہم میں احتیاط برت رہے ہیں کیونکہ وہ ریاست کے تمام عوام کے وزیراعظم ہیں۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر انتخاب کو عوامی خدمت کے بجائے کسی ایک فرد کو ہرانے کی جنگ بنا رہے ہیں، جس سے نفرت کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے ترقیاتی کاموں کو نظرانداز کر کے صرف برادری کی بنیاد پر فیصلے کیے تو مستقبل میں کوئی بھی عوامی خدمت کی سیاست نہیں کرے گا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد عوامی خدمت، ترقی، روزگار، سڑکوں، بجلی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی ہے، جبکہ نفرت، تقسیم اور برادری ازم پر مبنی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق علاقے کی ترقی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر استعمال ہونا چاہیے۔
آخر میں فیصل ممتاز راٹھور نے پٹھان برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی شرط کے ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے دوبارہ خدمت کا موقع دیا تو وہ صرف حویلی ہی نہیں بلکہ پورے آزاد جموں و کشمیر کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انتخابات 2026 پٹھان قبیلہ حویلی فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر