امریکا نے پاکستان کیخلاف سرجیکل اسٹرائیکس کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
26 فروری 2019 کو پاکستان کیخلاف بھارت کے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیکس کے مس ایڈونچر کا پاکستانی فضائیہ نے اگلے روز ہی منہ توڑ جواب دیا تھا لیکن حقیقت کا اعتراف کرنے کے بجائے بھارت نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ مار گرانے کا جھوٹا دعوی کیا۔
بھارت کے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیکس کے ڈرامے کو 6 سال مکمل ہوگئے مگر آج تک بھارتی سرکار اور فضائیہ اس واقعے کو ثابت کرنے میں ناکام ہیں، بھارت نے اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے غلط بیانی سے کام لیا جبکہ حقائق اس کے برعکس نکلے۔
یہ بھی پڑھیں: ’بھارت کی کوئی بھی ٹیکنالوجی پاکستان کے میزائلز کو ناکام نہیں بنا سکتی‘
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ نہ صرف پاکستانی ایف-16 مار گرانے میں ناکام رہی، بلکہ بھارت خود ایک جنگی طیارہ، ایک ہیلی کاپٹر اور 6 فوجی گنوا بیٹھی،جس پر بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ اوپن سورس سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق بھارت نے ایئر اسٹرائیک میں کوئی قابل ذکر ہدف نشانہ نہیں بنایا، 27 فروری کی فضائی جھڑپ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر اپنی ہی فورسز کی فائرنگ سے تباہ ہوا۔
مزید پڑھیں:بھارت کا 74واں یوم جمہوریہ، مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ
فارن پالیسی کے مطابق، پاکستان نے امریکی حکام کو ایف-16 طیاروں کی گنتی کی اجازت دی، جس کے بعد تصدیق ہو گئی کہ تمام طیارے موجود ہیں اور بھارتی دعویٰ غلط ثابت ہوا۔
دوسری جانب بلوم برگ نے بھی پاکستانی ایف 16 طیارے کو گرانے کے بھارتی دعوے کو مسترد کردیا، بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستانی ایف 16 مار گرایا، لیکن امریکی رپورٹ نے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کردیا۔
مزید پڑھیں: ’6 ستمبر 1965 جب پاک فوج نے بھارت کا حملہ پسپا کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے‘
امریکی صحافی کرسٹن فیئر نے بھی بھارتی دعوے کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ کوئی ایف 16 طیارہ تباہ نہیں کیا گیا، پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ابھی نندن کو حراست میں لے کر عزت و احترام کے ساتھ واپس بھیجا، جس نے بھارتی شکست کو مزید نمایاں کر دیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کے بعد پاکستانی فضائیہ نے موثر جوابی کارروائی کی، جس میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، بھارت کی جانب سے جنگی جنون اور جھوٹے دعوے انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابھی نندن امریکی صحافی اوپن سورس سیٹلائٹ ایف 16 بلوم برگ بھارت پاکستان جذبہ خیر سگالی دفاعی ماہرین فضائیہ کرسٹن فیئر واشنگٹن پوسٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابھی نندن امریکی صحافی ایف 16 بلوم برگ بھارت پاکستان جذبہ خیر سگالی دفاعی ماہرین فضائیہ کرسٹن فیي ر واشنگٹن پوسٹ کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔