پاکستان میں امریکی اسلحہ دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے: ترجمان دفترِ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
— فائل فوٹو
ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے جدید امریکی ہتھیار دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں، یہ ہتھیار پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد میں بریفنگ کے دوران شفقت علی خان نے کہا کہ پاک امریکا سفارتی سطح ہر اہم و دیرینہ تعلقات ہیں، ایف 16 پروگرام بھی ان تعلقات کا دیرینہ حصہ ہے، امریکا کا ایف 16 پروگرام سے متعلق فیصلہ خوش آئند ہے۔
امریکا نے افغانستان میں چھوڑا گیا اپنا اسلحہ واپس لینے کا اعلان کردیا۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پر ٹرکوں کے رکنے یا سرحد بند ہونے پر متعدد ادارے کام کر رہے ہوتے ہیں، طورخم سرحد پر افغان سائیڈ ہماری سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، سرحدوں کا میکنزم موجود ہے جس میں متعدد ادارے کام کر رہے ہوتے ہیں۔
شفقت علی خان نے کہا کہ تصدیق کرتے ہیں کہ 8 پاکستانی امریکا سے جلا وطن ہو کر پاکستان پہنچے، ان کی شناخت سے متعلق ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ ہی آگاہ کر سکتے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ ہم امریکا سے جلا وطن پاکستانیوں کی واپسی میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔