Express News:
2026-07-24@16:18:22 GMT

’’ تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے‘‘

اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT

 جب کھلاڑیوں کو یہ باورکرا دیا جائے کہ ’’ تم جیتو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے‘‘ تو چیمپئنز ٹرافی میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو برا کہنے والے لاکھوں تماشائی اور کروڑوں پاکستانی کون ہوتے ہیں؟

یقینا پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی سکت کے مطابق 241 رنزکا اسکور کھڑا کر دیا تھا، اب اگر بھارتی کھلاڑی اسے خاطر میں نہیں لائے اور انھوں نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے تیزی سے رنز بنائے اور پھر ان کے ایک منجھے ہوئے کھلاڑی نے جو پچھلی چیمپئنز ٹرافی میں فلاپ ہوگیا تھا اب موقع غنیمت جان کر ایک سنچری بنا ڈالی تو اب بھارتی کھلاڑیوں سے کیا گلہ کیا جائے؟ جب انھیں اپنی مرضی کے مطابق نرم ٹیم ملی تو وہ کیوں فائدہ نہ اٹھاتے۔ انھوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور وہ بھی ایسا کہ پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی سے باہر نکلنے کی بنیاد رکھ دی۔

ہمارے وزیر اعظم نے انھیں نصیحت کی تھی کہ ’’ دیکھو بھارتی ٹیم کو پچھاڑ کر ہی واپس آنا‘‘ مگر کھلاڑیوں نے ان کے فرمان کے برعکس ہی کیا لیکن شاید اس کی وجہ یہ رہی کہ جب کرکٹ کے کرتا دھرتا یعنی منتظم اعلیٰ جن سے کھلاڑیوں کا براہ راست واسطہ تھا وزیر اعظم کی نصیحت سے ہٹ کر یہ مشورہ دیں کہ ’’ تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے‘‘ تو وہ کیونکر ان کا کہنا ٹالتے۔ 

پھر دوسری طرف بھارت کو ہرا کر کیوں بھارتیوں کا دل توڑتے اور اگر بھارتی ٹیم ہار جاتی تو اس کی تو شامت ہی آ جاتی کیوں کہ بھارتی کھیلوں کے وزیر سے لے کر کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار نے بھی انھیں بتا دیا تھا کہ پاکستان سے ہارنا سخت منع ہے، چنانچہ انھوں نے اپنے منتظمین کے کہنے پر عمل کیا، ورنہ بھارت پہنچ کر ان کی وہ رسوائی اور کھنچائی ہوتی کہ اور کہا جاتا کہ تم سب سے ہارتے مگر پاکستان سے کیوں ہارے؟ جب کہ دوسری طرف پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ 

اس میں شک نہیں کہ کرکٹ کا کھیل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے ،کبھی کسی ٹیم کی طرف پلڑا جھک جاتا ہے تو کبھی دوسری کی طرف۔ ہمارے کھلاڑی اتنے سیدھے سادھے نکلے کہ وہ کرکٹ کے پیچ و خم سے ہی واقف نہ نکلے کہ کس وقت کیسی بیٹنگ کرنا ہے اور کیسی بالنگ کرنا ہے۔

تاہم یہ بات تمام کھلاڑیوں پر صادق نہیں آتی ہے، البتہ بالکل نووارد اور سفارشیوں پر ضرور لاگو ہوتی ہے۔ وہ بھی تو کھلاڑی تھے جنھوں نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں بھارتی ٹیم کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے اور شکست سے دوچار کردیا تھا۔

افسوس کہ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں ان میں سے صرف دو کھلاڑی یعنی بابر اعظم اور شاہین شاہ کے علاوہ تمام کھلاڑی نئے تھے حتیٰ کہ کپتان محمد رضوان بھی نووارد ہیں۔ نئے کھلاڑیوں نے ابھی تک کرکٹ کے کسی اہم ایونٹ یعنی ورلڈ کپ، ٹی 20 یا چیمپئنز ٹرافی میں حصہ نہیں لیا ہے۔

جب چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ سے شکست کھا گئی تھی تو بی بی سی کے ایک مبصر نے کہا تھا اسٹیڈیمز بنانے کے جنون میں اسٹیڈیمز تو جیسے تیسے بن گئے مگر اس تگ و دو میں منتظمین ٹیم کا بنانا بھول گئے جس کا نتیجہ آج آگیا۔

پاکستان اس بار چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوگیا ہے مگر ہمیشہ ہی ایسی صورت حال نہیں رہے گی بشرطیکہ ٹیم پر بھرپور توجہ مرکوزکی جائے۔ بہرحال اس وقت تو مایوس کن صورت حال ہے اور پوری قوم مایوسی کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے مگر اسے آگے ضرور خوشیاں دیکھنا نصیب ہوں گی۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کھلاڑیوں کا سلیکشن درست نہیں ہوا؟ تو کہا جا رہا ہے کہ سلیکٹرز کی جانب سے سراسر غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو یکسر نظرانداز کیا گیا ان کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔

خوش دل کسی طرح بھی صائم ایوب کا متبادل نہیں تھا ۔ اس نے ہی شبھمن گل کا کیچ ڈراپ کرکے ٹیم کے ہارنے کی بنیاد رکھ دی تھی، پھر سعود شکیل نے بھی شریاس آیئرکا کیچ چھوڑ کر ٹیم کو مزید مایوس کیا۔ اگر یہ دونوں کیچ پکڑ لیے جاتے تو شاید میچ کا رخ تبدیل ہو سکتا تھا اور اگر پاکستان نہ بھی فاتح ہوتا تو کم سے کم بھارت آسانی سے میچ نہ جیت پاتا مگر اسے کیا کہا جائے کہ نہ تو پاکستان کی بالنگ ہی چل سکی اور نہ ہی بیٹنگ کوئی کارنامہ انجام دے سکی۔

پاکستان کے سب سے قابل اعتماد بالر شاہین آفریدی نے بہت ہی مایوس کن بالنگ کی، انھوں نے 74 رن دے کر دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔ بلے بازوں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ میچ کی کل 300 بالز میں سے انھوں نے صرف 147 کو کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ بلے بازوں کے بارے میں کئی مبصر کہہ رہے ہیں کہ وہ ایسے ڈر ڈر کرکھیل رہے تھے جیسے پچ میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں، حتیٰ کہ بابر اعظم جیسا منجھا ہوا کھلاڑی اتنی احتیاط سے کھیل رہا تھا کہ رن بنیں نہ بنیں کہیں وہ آؤٹ نہ ہو جائے ورنہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ تنقید کا نشانہ نہ بن جائے گا۔

اسے اوپنر بھیج کر بھی اچھا نہیں کیا گیا۔ ٹیم کی کارکردگی پر تو پہلے ہی سوال اٹھائے جا رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ ٹیم کا جیتنا مشکل ہے۔ گزشتہ چیمپئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کے کپتان سرفراز جیسے کتنے ہی کھلاڑی ابھی کرکٹ کھیل سکتے ہیں مگر جلد ہی فارغ کر دیا گیا ۔

ٹیم کے سلیکشن میں تو غلطی کی ہی گئی ادھر کوچنگ بھی اطمینان بخش نہیں رہی۔ کھلاڑیوں میں مستقل مزاجی اور پروفیشنل ازم کا فقدان تھا۔ امریکا کے ساتھ میچ ہارنے کے بعد ہی انتظامیہ کو ٹیم کی خراب کارکردگی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت تھی۔

بھارتی عوام سے کہیں زیادہ بھارتی حکومت پاکستان کے ہارنے سے بہت خوش ہے۔ پہلے تو اس نے سر توڑ کوشش کی تھی کہ پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی منعقد ہی نہ ہونے پائے۔ اس میں تو اسے ضرور شکست ہوئی مگر اب پاکستانی ٹیم کے میچ سے ہی باہر ہونے پر انھیں بہت سکون ملا ہوگا تاہم وہ ابھی بھی چین سے نہیں بیٹھے ہیں وہ پاکستان میں ہونے والے باقی میچوں کو بھی دبئی منتقل کرانے کی سازش کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں بھارتی چینلز پر زور و شور سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور کسی بھی وقت دہشت گرد کھلاڑیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اب بتائیے کہ بھارت کی انتہا پسند حکومت پاکستان دشمنی میں کتنی آگے نکل چکی ہے اور ہم اس سے تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے بھارت کو بھی اس نظریے سے دیکھا جا رہا ہے کہ تم دوستی کرو یا دشمنی، ہمیں تم سے پیار ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد