پی ٹی آئی کا شور ایسے ہے جیسے سحری میں ڈھول یا پیپا بجانا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی کانفرنس میں جو زبان استعمال ہوئی ماضی میں ایسی زبان کسی نے استعمال نہیں کی۔ پی ٹی آئی کا شور ایسے تھا جیسے سحری میں ڈھول یا پیپا بجایا جاتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی آمریتوں میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اوپر بہت ظلم ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگائی گئی، نواز شریف کو جیل بھیجا گیا، بینظر بھٹو کو قید کیا گیا۔
انھوں نے کہا ہم نے سیاست کو سیاست کے میدان میں لڑا ہے، ہماری فوج روزانہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کر رہی ہے۔ اس وقت فوج کے خلاف بات کرنا ملک کیساتھ وفاداری نہیں بلکہ غداری ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں طالبان اور ٹی ٹی پی کو ہزاروں کی تعداد میں واپس لا کر بسایا گیا، ٹی ٹی پی اور طالبان کو بانی پی ٹی آئی نے اپنی دفاعی لائن بنایا ہوا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج کل روزے ہیں، پی ٹی آئی کا شور ایسے ہے جیسے سحری میں ڈھول یا پیپا بجانا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔