Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:40:01 GMT

ٹرین حملہ، تانے بانے کابل، نئی دہلی سے ملنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT

ٹرین حملہ، تانے بانے کابل، نئی دہلی سے ملنے لگے

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)جعفرایکسپریس کے المناک واقعہ کے بعدوزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی اورڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پہلی مرتبہ واقعہ کی تمام تفصیلات ،ریسکیوآپریشن ،بی ایل اے کے پیچھے افغانستان اور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق اہم باتیں کی ہیں اوروزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی کوذمہ دارقراردیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیاہے کہ ان سب کے پیچھے جس کانام واقعہ کے تین دن گزرنے کے بعدپہلی بار مکمل تفصیلات سے قوم کو آگاہ کیاگیاہے،ڈی جی آئی ایس پی آرنے ریسکیوآپریشن کی کامیابی اوراس میں ضرارکمپنی کے اہم کردارکی تفصیلات بھی بتائیں،واقعہ میں شہادتوں کی تعدادبڑھ کر26ہوگئی ہے،18کاتعلق فوج اور ایف سی سے بتایاگیاہے،ڈی جی آئی ایس پی آرنے بھارتی میڈیاکے منفی کردارکو بھی اجاگرکیا،واقعہ کے فوراًبعدبھارتی میڈیانے اے آئی فوٹیج استعمال کرتے ہوئے خوب پروپیگنڈاپھیلایا،وزیراعلیٰ بلوچستان نے ٹھوس اور جامع اندازمیں اپناموقف پیش کیااورانہوں نے کہاکہ افغانستان وہ واحد ملک تھاجس نے 1947میں قیام پاکستان کی مخالفت کی اوراسے تسلیم کرنے سے انکارکیااورجب ان پر مشکل وقت آیاتوپاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑاہوا،لاکھوں افغانیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی اوردہشت گردوں کوسپورٹ کرکے پاکستان کے احسانات کااس انداز میں بدلہ چکایاگیاہے کہ اسے نقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیاجارہا، پاکستان کے لیے سٹرٹیجک اہمیت کا حامل صوبہ بلوچستان اگرچہ گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے ،ماضی میں بھی صوبے کے اندر وقتاً فوقتاً کم شدت کے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن حالیہ عرصے میں صوبے میں دہشت گردانہ حملوں اور قتل وغارت کی کارروائیوں میں اضافے خاص طور پر ٹرین کیاغواء کے حالیہ واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ د یا ہے،یقیناً یہ صورتحال صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سنگین رکاوٹ ہے، بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن بدامنی اور انتشار کی وجہ سے ان وسائل سے مکمل استفادہ ممکن نہیں ہو پا رہا،بلوچستان میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں کیونکہ اس صوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے ، چنانچہ بلوچستان میں بدامنی میں اضافے کی وجہ بھی سی پیک ہی ہے ،اس منصوبے کے باعث بلوچستان میں بیرونی مداخلت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ، پاکستان دشمن قوتیں مقامی سطح پر اپنے آلہ کاروں کے ذریعے سی پیک کو سبوتاعکرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں،بلوچستان میں بھارتی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی،ماشکیل سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت ہے،اسی طرح ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، ضرورت اس امرکی ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں، بلوچستان میں امن کیلیے سکیورٹی فورسز مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں لیکن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امرکی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں قیام امن کے لیے سکیورٹی پلان کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچستان میں کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان