Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:40:09 GMT

ٹرین حملہ، تانے بانے کابل، نئی دہلی سے ملنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT

ٹرین حملہ، تانے بانے کابل، نئی دہلی سے ملنے لگے

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)جعفرایکسپریس کے المناک واقعہ کے بعدوزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی اورڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پہلی مرتبہ واقعہ کی تمام تفصیلات ،ریسکیوآپریشن ،بی ایل اے کے پیچھے افغانستان اور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق اہم باتیں کی ہیں اوروزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی کوذمہ دارقراردیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیاہے کہ ان سب کے پیچھے جس کانام واقعہ کے تین دن گزرنے کے بعدپہلی بار مکمل تفصیلات سے قوم کو آگاہ کیاگیاہے،ڈی جی آئی ایس پی آرنے ریسکیوآپریشن کی کامیابی اوراس میں ضرارکمپنی کے اہم کردارکی تفصیلات بھی بتائیں،واقعہ میں شہادتوں کی تعدادبڑھ کر26ہوگئی ہے،18کاتعلق فوج اور ایف سی سے بتایاگیاہے،ڈی جی آئی ایس پی آرنے بھارتی میڈیاکے منفی کردارکو بھی اجاگرکیا،واقعہ کے فوراًبعدبھارتی میڈیانے اے آئی فوٹیج استعمال کرتے ہوئے خوب پروپیگنڈاپھیلایا،وزیراعلیٰ بلوچستان نے ٹھوس اور جامع اندازمیں اپناموقف پیش کیااورانہوں نے کہاکہ افغانستان وہ واحد ملک تھاجس نے 1947میں قیام پاکستان کی مخالفت کی اوراسے تسلیم کرنے سے انکارکیااورجب ان پر مشکل وقت آیاتوپاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑاہوا،لاکھوں افغانیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی اوردہشت گردوں کوسپورٹ کرکے پاکستان کے احسانات کااس انداز میں بدلہ چکایاگیاہے کہ اسے نقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیاجارہا، پاکستان کے لیے سٹرٹیجک اہمیت کا حامل صوبہ بلوچستان اگرچہ گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے ،ماضی میں بھی صوبے کے اندر وقتاً فوقتاً کم شدت کے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن حالیہ عرصے میں صوبے میں دہشت گردانہ حملوں اور قتل وغارت کی کارروائیوں میں اضافے خاص طور پر ٹرین کیاغواء کے حالیہ واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ د یا ہے،یقیناً یہ صورتحال صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سنگین رکاوٹ ہے، بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن بدامنی اور انتشار کی وجہ سے ان وسائل سے مکمل استفادہ ممکن نہیں ہو پا رہا،بلوچستان میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں کیونکہ اس صوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے ، چنانچہ بلوچستان میں بدامنی میں اضافے کی وجہ بھی سی پیک ہی ہے ،اس منصوبے کے باعث بلوچستان میں بیرونی مداخلت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ، پاکستان دشمن قوتیں مقامی سطح پر اپنے آلہ کاروں کے ذریعے سی پیک کو سبوتاعکرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں،بلوچستان میں بھارتی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی،ماشکیل سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت ہے،اسی طرح ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، ضرورت اس امرکی ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں، بلوچستان میں امن کیلیے سکیورٹی فورسز مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں لیکن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امرکی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں قیام امن کے لیے سکیورٹی پلان کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچستان میں کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • کراچی؛ موٹر سائیکل سوار نوجوان کی خاتون سے نازیبا حرکت، ویڈیو سامنے آگئی
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق