ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ میں فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت سے متعلق کہا ہے کہ وہ پولیس کی نہیں، بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اپنے کارکنوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ کارروائی کے دوران ماہ رنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ضلعی انتظامیہ نے ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر قائدین کی گرفتاری سے متعلق کہا ہے کہ پولیس نے مظاہرے سے جنازے لینے کے لئے کارروائی کی۔ مذکورہ افراد پولیس کی نہیں، بلکہ مظاہرین کی فائرنگ سے مارے گئے۔ کمشر آفس کوئٹہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جعفر ایکسپریس کے ہلاک دہشتگردوں کے حق میں بی وائی سی کے احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی۔ انکی اپنی فائرنگ سے تین مظاہرین مارے گئے۔ بی وائی سی نے ان کی لاش اٹھا کر احجاج شروع کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سول حکام اور پولیس نے بی وائی سی کے رہنماؤں سے ان لاشوں کا طبی معائنہ مروجہ قوانین کے تحت کرنے کیلئے کہا تاہم بی وائی سی نے انکار کیا۔

سول انتظامیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بی وائی سی نے لاشیں دینے سے انکار اس لئے کیا کہ ان تین افراد پر فائرنگ بی وائی سی کے مسلح غنڈوں پر ثابت ہونا تھی۔ بی وائی سی کی قیادت نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے غیر ضروری احتجاج شروع کیا۔ ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ بی وائی سی کی فائرنگ سے مارے جانے والے تین افراد کے ورثاء نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے درخواست کی کہ انکے پیاروں کی لاشیں بی وائی سی سے چھڑوا کر برآمد کروا کے اہلخانہ کے حوالے کریں۔ جس پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کی، اور ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی رہنماؤں کیخلاف متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی اور سول ہسپتال پر حملے اور عوام کو پرتشدد احتجاج پر اکسانے سمیت دیگر اہم دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی فائرنگ سے مارے ضلعی انتظامیہ نے بی وائی سی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق