عید کے بعد متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے احتجاج ہو گا، فیصل چودھری
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل سمیت بہت سارے وکلا کو سیاست کا تجربہ نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے پہلے اور آئندہ بھی کوششیں کرتا رہوں گا، میری خواہش ہے بانی پی ٹی آئی جلد سے جلد جیل سے رہا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کے وکیل فیصل چودھری نے کہا ہے کہ عید کے بعد متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے احتجاج ہوگا۔ ایک نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ سمیت بہت سارے وکلا کو سیاست کا تجربہ نہیں ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے پہلے اور آئندہ بھی کوششیں کرتا رہوں گا، میری خواہش ہے بانی جلد سےجلد جیل سے رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی کا بیانیہ نہیں آئے گا تو ہمارے لیے مشکل ہو جائے گی، عدالت کا فیصلہ اگر بلینکٹ بین ہوگا تو چیلنج کریں گے، ہمارے بہت سے وکلا سیاسی طور پ رنابالغ ہیں، وکلا کو سیاسی صورتحال کو بھی دیکھنا چاہیے تھا۔
وکیل تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ مقتدرہ سے بات کرنے کا بیان دینا بچگانہ حرکت ہے، ایسی بات سے ہمارے اتحادی پریشان ہو جاتے ہیں، تحریک انصاف میں کوآرڈی نیشن کی بھی کمی ہے، پی ٹی آئی کا ورکرز ایک سوال کرتا ہے بانی کب باہر آئیں گے۔ فیصل چودھری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں، مولانا فضل الرحمان کے جو تحفطات ہیں انہیں حل ہونا چاہیے، عید کے بعد متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے احتجاج ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک انصاف فیصل چودھری
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔