بجلی کی قیمت میں تبدیلی کے بعد بلوں میں کتنی کمی ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لئے 7.41 پیسے جبکہ صنعتی صارفین کے لئے 7.69 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے، 4 کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 80 صارفین کا بل پہلے ماہانہ 2 ہزار روپے آتا تھا، ان کا بل اب ایک ہزار روپے سے بھی کم آئے گا۔
نجی سوشل میڈیا ویب سائٹ وی نیوز کے مطابق اویس لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لائف لائن کسٹمر سے 4 روپے 78 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے جس کے بعد 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے لائف لائن کسٹمر سے نو روپے 37 پیسے فی یونٹ چارجز وصول کئے جا رہے ہیں۔
ایک سے 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے 14 روپے 67 پیسے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے جو کہ اب اٹھ روپے 52 پیسے وصول کئے جائیں گے۔اسی طرح 100 یونٹ سے 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں سے 17 روپے 65 پیسے وصول کئے جا رہے تھے، جس سے اب 11 روپے 51 پیسے وصول کئے جائیں گے۔ گزشتہ سال جون کے مقابلے میں اب تک ان صارفین کو 10 روپے 8 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ گھریلو صارفین سے گزشتہ سال جون میں 39.
اویس لغاری نے بتایا کہ انڈسٹریل صارفین سے جون 2024 میں 58.50 روپے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے تو ہم اب 10 روپے سے زائد کمی کے بعد 48.19 روپے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم نے ان سارے صارفین کو مزید 7 سے 9 روپے کا ریلیف دیا ہے اور اب ان صارفین سے 40 روپے 51 پیسے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی صارفین سے 2024 میں 43.38 روپے فی یونٹ اور اب 41.7 روپے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے تاہم اب ان صارفین کو 7 روپے 18 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 34.58 روپے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ایک بڑا مسئلہ تھا، 2018 میں یہ قرضہ 702 ارب تھا، 2018 سے 2022 تک اس قرضے میں 1500 ارب سے زائد کا اضافہ ہوا، اور اب 2400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، لیکن اب اس گردشِی قرضے میں کمی آئے گی، اس سال بھی گردشی قرضے میں 9 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ 36 آئی پی پیز سے مذاکرات ہو چکے ہیں، جس سے پاور پلانٹس کی 3 سے 25 سال عمر کے دوران حکومت کو 3 ہزار 696 ارب روپے کی بچت ہو گی۔اویس لغاری نے کہا کہ جون تک تمام 4 کروڑ بجلی صارفین کے میٹرز کی آٹومیشن شروع کر دی جائے گی، جس سے آئندہ 3 سال میں ہر میٹر اور ٹرانسفارمر کا سسٹم آن لائن کر دیا جائے گا۔اویس لغاری نے کہا ہے کہ فی الوقت پہلے مرحلے میں 3 ڈسکوز کی نجکاری کے بین الاقوامی طرز پر زور و شور سے کام شروع ہے۔ ان 3 ڈسکوز میں آئیسکو ،گیپکو اور فیسکو شامل ہیں۔ اگر یہ نجکاری کامیاب ہو گی تو دوسرے مرحلے میں لیسکو، سیپکو ، میپکو کی نجکاری کریں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دکانوں، ورکشاپوں اور چھوٹے اداروں میں کام کرنیوالے ورکرز کی رجسٹریشن شروع کرنے کا حکم دیدیا
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: روپے فی یونٹ وصول کئے جا ہے اور اب ان صارفین سے اویس لغاری نے کہا کہ استعمال کرنے پیسے فی یونٹ سے فی یونٹ صارفین کو یونٹ تک کے بعد
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔