ٹریفک کے مسائل پر توجہ دیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
قارئین ! آج جس موضوع پر اظہار خیال کرنے کی کوشش کی ہے ، وہ ٹریفک مسائل سے متعلق ہے جس کا اہل کراچی شکار ہیں بلکہ آجکل خاصے پریشان ہیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے محکمے کے افسران کو ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر بھر میں پرانی بوسیدہ اور ہیوی گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا، بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والے افراد کے خلاف موقع پر چالان کیا جائے ، فینسی نمبر پلیٹس، کالے شیشے، نیلی لائٹس، ہوٹرز اور سائرن والی گاڑیوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی جائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈی آئی جی ٹریفک نے اس شہر کے لیے خلوص دل سے مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔
یہاں میں کچھ مسائل پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جن کا حل ہونا بہت ضروری ہے اگر ہماری پولیس ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے تو مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ پولیس کے بہتر اقدامات اٹھانے پر خوشی سے سرشار ہوں گے کیونکہ اس وقت لوگ بہت مایوس بلکہ زیادہ مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔
اس شہر میں چنگ چی والوں نے شہر کا ماحول خراب کر دیا ہے ادھر موٹرسائیکل سواروں نے قانون کی تمام حدیں پار کرلی ہیں یہ نہ تو اینٹی گیٹر کو اہمیت دیتے ہیں11 سال کے نوعمر موٹرسائیکل چلاتے ہیں اور ایک موٹرسائیکل پر 12 سال سے لے کر 16 سال کے لڑکے جن کی تعداد 3 تا چار ہوتی ہے وہ سوار ہوجاتے ہیں، انتہائی تیز رفتاری سے موٹرسائیکل چلاتے ہیں، ٹریفک کے قوانین کی قطعی پابندی نہیں کرتے ،گاڑیوں سے ٹکراتے ہیں جلدی کے چکر میں 30 لاکھ سے لے کر 90 لاکھ کی گاڑی میں اسکریچ ڈال دیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں موٹرسائیکل 16 سالہ لڑکا چلا رہا تھا پیچھے اس کی والدہ فخریہ بیٹھی تھیں کہ ان کا بیٹا جوان ہو گیا ہے اس نوجوان نے ایک کار کو ٹکر ماری جس کی وجہ سے موٹرسائیکل گر پڑی اور اس کی کہنی میں چوٹ لگ گئی، ماں نے کار والے کو پکڑ لیا اور بے تحاشا گندی زبان استعمال کی، اس دوران 30 موٹرسائیکل والے ان کی حمایت میں جمع ہو گئے۔
کار سوار نے کہا’’ محترمہ! میں نے اینٹی گیٹر دیا ہے۔ آپ دیکھیں جو اب تک آن ہے۔ آپ بلاوجہ گندی زبان استعمال کر رہی ہیں۔ اس کی والدہ نے کہا’’ اپنی گاڑی میں مجھے اور میرے بیٹے کو بٹھاؤ اور ہمیں اسپتال لے کر چلو‘‘اب یہ تو زیادتی کی بات ہے، نوجوان موٹرسائیکل مصروف روٹ پر چلاتے ہیں۔
صبح کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک موٹرسائیکل پر تین طالب علم اسکول جاتے ہیں جب کہ ان کے والدین کو چاہیے کہ نوجوانوں کو موٹرسائیکل نہ دیں اس پر ڈی آئی جی ٹریفک کو سخت ایکشن لینا چاہیے۔ شرفا کے پاس لائسنس ہے اس کے باوجود ان داداگیروں نے اس شہر کی خوبصورتی کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ آج کل ایک نیا فیشن مارکیٹ میں آیا ہے نوجوانوں نے اپنی گاڑیوں میں سفید ہیڈ لائٹ لگا لی ہیں ،رات میں سامنے کچھ نظر نہیں آتا ،یہ المیہ ہے شریف شہری کی جان عذاب میں آگئی ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہیوی گاڑیوں کی رفتار 30 کلو میٹر ہونی چاہیے۔ پانی کے ٹینکرز سے پانی رس رہا ہوتا ہے جس سے روڈ بربادی کی طرف جا رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ حادثات کی روک تھام ہونی چاہیے ،ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹریفک پولیس محنت سے ٹریفک کے نظام کو سیدھے راستے پر لانا چاہتی ہے سب سے پہلے موٹرسائیکل والوں کو اس بات کا پابند کیا جائے ، اینٹی گیٹر تمام موٹرسائیکل والوں کے چیک کیے جائیں، سائیڈ گلاس لگانے کے حوالے سے انھیں پابند کیا جائے ،معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ80 فی صد موٹرسائیکلوںکی نمبر پلیٹ ہی نہیں ہوتی، حادثے کی صورت میں پولیس بھی کچھ نہیں کر سکتی، نمبر پلیٹ کی ہی وجہ سے آپ حادثے کے ملزم کو پکڑ سکتے ہیں کہ اس کا ایڈریس مل جائے گا۔
رش کے دوران لوگوں کے چلنے والی فٹ پاتھوں پر آپ کو یہ موٹرسائیکل والے رواں دواں نظر آئیں گے، قوم فٹ پاتھ پر اپنی جان کی حفاظت کرے یا ان فٹ پاتھوں پر چلنے والے موٹرسائیکل سواروں کو چیک کرے پھر جاہل حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ کام پولیس کا ہے وہ انھیں پکڑیں ۔
اصل میں ہمارے معاشرے میں 20 فی صد پڑھے لکھے لوگ جاہلوں سے بہتر ہیں۔ بڑی کمرشل گاڑیاں ون وے کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں جب تک گاڑیوں کے لائسنس اور کاغذات نہیں چیک کیے جائیں گے ، چند داداگیر قسم کے لوگ، پولیس کی محنت پر پانی پھیرتے رہیں گے ۔
سفید لائٹس جو منچلوں نے کاروں پر لگا رکھی ہیں اس سے سامنے والی گاڑی بالکل نظر نہیں آتی روز حادثات ہوتے ہیں قصوروار بے قصور کو ذلیل و رسوا کرتا ہے کیونکہ اکثر رات دس بجے کے بعد پولیس بہت کم جگہ دیکھی جاتی ہے۔
ظاہر ہے ان کی بھی ڈیوٹی کے اوقات مخصوص ہوتے ہیں۔ دراصل ٹریفک قوانین کو توڑنا ہم نے اپنا چلن بنا لیا ہے۔میں پھر یہی کہوں گا کہ 70 فیصد موٹرسائیکل سواروں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہوتے، جب صوبائی حکومت سختی سے اعلان کرے گی تو صرف ایک ماہ میں عام شہری لائسنس اورکاغذات بنوائیں گے ہیلمٹ سے تو ایک شخص کی جان بچ سکتی ہے مگر ان موٹرسائیکل والوں کی وجہ سے ہر دوسرے شخص کی جان عذاب میں ہے ۔.
14 سال کے نوعمر موٹر سائیکل چلاتے پھر رہے ہیں حادثے کی صورت میں 14 سال کے بچے کے خلاف کیا قانونی کارروائی ہوگی ؟کیونکہ شہر میں ٹریفک بہت ہے اور اس میں 70 فیصد تو موٹرسائیکل والے ایسے ہیں جو سڑک کے کنارے کھڑی کار کے آگے پیچھے موٹرسائیکل لاک کرکے چلے جاتے ہیں ،وقت ضرورت گاڑی کے مالک راہ گیروں کی مدد لے کر موٹرسائیکلیں ہٹاتے ہیں۔
ذرا سوچیں! ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ موبائل پر ایس ایم ایس کرتے ہوئے یہ موٹرسائیکل چلا رہے ہوتے ہیں اگر انھیں آپ ہارن دے کر باور کرائیں کہ راستہ دیں تو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہیں اور گالیاں الگ دیتے ہیں تو پھر معزز شہری کی تو کوئی عزت نہ ہوئی۔ میں پھر لکھ رہا ہوں کہ موٹرسائیکل افراد ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تو حادثات کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جب کہ محکمہ ٹریفک پولیس کے اہلکارں سے مودبانہ گزارش ہے کہ لائسنس، ٹیکس، لائٹ، اینٹی گیٹر (موٹرسائیکل کے حوالے سے) آپ سختی سے قانونی طور پر انھیں پابند کریں تاکہ شریف شہری قانون کی حکمرانی کو بہتر طریقے سے دیکھ کر آپ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔