راولپنڈی(نیوز ڈیسک)غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں پاکستان کے مختلف شہروں میں غیرملکی فاسٹ فوڈ چینز ’کے ایف سی‘ کی برانچز پر حملے کیے جا رہے ہیں جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ راولپنڈی میں ایسے ہی ایک حملے کے بعد کے ایف سی کی برانچز پر پولیس نفری تعینات کردی گئی۔

سوشل میڈیا پر آج ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے راولپنڈی میں موجود ’کے ایف سی‘ کی برانچ پر چند لوگوں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں کو ہاتھ میں بیس بال کا ڈنڈا اٹھائے اور بازؤں پر فلسطینی پرچم باندھے دیکھا گیا۔

حملہ آوروں نے ریسٹورنٹ میں توڑ پھوڑ کی اور گالیاں دیتے رہے۔ حملے کے دوران اگرچہ برانچ میں موجود افراد یا اسٹاف کو تو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا لیکن چند فیملیز جو اس وقت ریسٹورنٹ میں کھانے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں انہیں وہاں سے باہر نکال دیا گیا۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ کے 15 پر کال کرنے پر حملہ کرنے والے نوجوان فرار ہوگئے۔
صحافی معید پیرزادہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کون سا سرمایہ کار اس پاکستان میں آئے گا جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے؟ راولپنڈی کی ایک کے ایف سی برانچ میں جو کچھ اسرائیل کے خلاف ہوا وہ بظاہر غنڈہ گردی ہے اور یہ واقعہ فوج کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ہی پیش آیا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ یہ سب کرنے سے کیا فلسطین آزاد ہو جائے گا؟ یہ سب کرکے ہم فلسطین کی کیا مدد کر رہے ہیں؟ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو پر امن طریقے سے بھی ہو سکتا ہے جیسے ترکیہ میں ہوا، وہاں 550 سے زیادہ کے ایف سی کے ریسٹورنٹ تھے لیکن وہاں کی عوام نے تھوڑ پھوڑ نہیں کی، انہوں نے بائیکاٹ کیا اور سارے کے ایف سی پوائنٹ بند ہو گئے۔
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان کو اسرائیلی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہروں کراچی اور میرپور خاص میں فلسطین کے حق میں احتجاج کے دوران ’کے ایف سی‘ اور ’ڈومینوز‘ کی 4 برانچز پر حملہ اور لوٹ مار ہوئی تھی جس کے بعد 24 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی طرح ایک دوسرے واقعے میں زیریں سندھ کے شہر میرپور خاص میں ’کے ایف سی‘ کی ایک برانچ کو مشتعل افراد کی جانب سے آگ لگا دی گئی تھی۔

کے ایف سی پر حملہ کرنے والے ملزمان کی شناخت کرلی گئی، راولپنڈی پولیس
راولپنڈی پولیس کے مطابق تھانہ کینٹ کے علاقے میں فاسٹ فوڈ چین کی برانچ میں ہنگامہ آرائی اور گالم گلوچ پر واقعے کا مقدمہ فاسٹ فوڈ چین کے برانچ مینیجر کی مدعیت میں تھانہ کینٹ میں درج کرلیا گیا، جبکہ ملزمان کی شناخت بھی کرلی گئی ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق ڈنڈا بردار 10 سے 12 افراد برانچ میں داخل ہوئے اور گالم گلوچ کی، ملزمان نے برانچ میں بیٹھے شہریوں سے بھی گالم گلوچ کی۔

پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، انٹرنیشنل فوڈ چینز کی برانچز پر پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔

راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ قانون شکنی، ہنگامہ آرائی اور شہریوں سے بدتمیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، واضح پیغام ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائےگا۔
یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے کے آغاز کے بعد سے پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ایسی درجنوں مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم جاری ہے جن سے متعلق صارفین کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیلی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ فاسٹ فوڈ کمپنی کے ایف سی کو بھی اسی لیے تنقید کا سامنا ہے کہ اس کا تعلق اسرائیل سے ہے۔

پاکستان میں جاری اس بائیکاٹ مہم میں کئی لوگ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ہم اسرائیلی ظلم کو روک نہیں سکتے تو کم از کم ان کو معاشی طور پر نقصان تو پہنچا سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:خان اور پارٹی اللہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں، شیر افضل مروت

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کی برانچز پر کے ایف سی فاسٹ فوڈ کی برانچ پر حملہ

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار