پاکستان، ترکی، یونان، میانمار، افغانستان میں شدید ترین زلزلہ آنے کا خدشہ،ماہرین ارضیات کی نئی وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) پرائیویٹ زلزلہ پیشن گوئی ادارے “ارتھ کوئیک کوئیک نیوز اینڈ ریسرچ سینٹر (EQQN)” کے سربراہ شاہباز لغاری نے ایک نئی وارننگ جاری کی ہے جس میں انہوں نے آئندہ ہفتے کے دوران مختلف ممالک میں زلزلہ آنے کی پیش گوئی کی ہے۔
شاہباز لغاری نے “ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APPC)” سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ادارے کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ دنوں میں میانمار میں 5.
انہوں نے دعویٰ کیا کہ EQQN کا جدید سسٹم زلزلوں کی 128 گھنٹے پہلے پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور ان کی تمام گزشتہ پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔
شاہباز لغاری نے اپنی پیش گوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لیے 12 اپریل 2025 کو پاکستان میں آنے والے زلزلے کی مثال دی، جس کے بارے میں ان کے ادارے نے 7 اپریل 2025 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیشگی آگاہ کیا تھا۔
EQQN کی وارننگ کے بعد متاثرہ ممالک میں حکام کو الرٹ رہنے اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت5.9 ریکارڈ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پیش گوئی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔