سیاسی سسپنس فلم کا اصل وارداتیا!
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
سسپنس فلموں سے دلچسپی رکھنے والے حضرات بخوبی واقف ہیں کہ بعض اوقات بالکل آخر میں جا کر یہ راز کھلتا ہے کہ سب سے زیادہ بے ضرر اور معصوم دکھائی دینے والا کردار ہی اصل مجرم تھا۔یہ جان کرشائقین پرحیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہےکہ جس کردار کو بھولا بھالا اور شریف النفس سمجھتے رہے وہی اصل وارداتیا” تھا ۔حقیقی زندگی میں شرافت کا نقاب اوڑھ کر سادہ لوح لوگوں کو چکمہ دینے والے نوسر بازوں کا تذکرہ اکثر سنائی دیتا ہے ۔ ملکی سیاست میں بھی ایسے کرداروں کی کمی نہیں ۔اس تمہید کی وجہ ہمارے یار خاص تبریز میاں ہیں۔ موصوف سسپنس فلموں کےشیدائی ہیں اور معصومیت کے لبادے میں پوشیدہ مکار کرداروں کو پہچاننے میں خاص مہارت رکھتے ہیں ۔تبریز میاں کا خیال ہے کہ سابق صدر عارف علوی بھی سیاسی فلم کا وہ کردار ہے جو بظاہر بردبار دکھائی دیتا ہے لیکن در پردہ گہری چالیں چل کر سنگین وارداتوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔ گو راقم نے تبریز میاں کی اس رائے کو پہلے اتنا سنجیدگی سے نہیں جانچا البتہ سابق صدر کی حالیہ کارروائیاں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ محترم عارف علوی صاحب گزشتہ کچھ ہفتوں سے امریکہ یاترا فرما رہے ہیں ۔بےضرر دکھائی دینےوالےسابق صدرکےبعض بیانات انکے ظاہری شخصی تاثر کے برعکس بےحد متنازع اور زہریلے ہیں۔ ان بیانات کےعلاوہ امریکہ یاترا میں سابق صدر کی امریکی اراکین کانگرس سے عجزمندی اور جھولی پھیلا کر سیاسی گریہ و زاری کی اطلاعات بھی ناخوشگوار تاثر پھیلا رہی ہیں ۔اس تناظر میں تبریز میاں کی سابق صدر کے متعلق پیش گوئی درست لگتی ہے۔ ماضی میں سابق صدر کے بعض معنی خیز اقدامات کی جھلکیاں یادداشت میں ابھرتی جا رہی ہیں۔ عارف علوی صاحب پیشے کے اعتبار سے دندان ساز ہیں۔ شنید ہے کہ ماضی میں جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی صاحب کی فکر سے متاثر رہے اور غالبا جماعت اسلامی کا حصہ بھی رہے۔ تحریک انصاف کے سیاسی عروج نے موصوف کو پارٹی کی صف اول کی قیادت میں جلوہ افروز ہونے کا موقع بخش دیا ۔تحریک انصاف میں صف اول بھی دراصل بانی چیئرمین عمران خان کے بعد ہی شروع ہوتی ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عارف صاحب کو پی ٹی آئی کی درجہ دوم قیادت میں نمایاں مقام حاصل رہا ہے ۔جب مرکز میں اقتدار کا پھل تحریک انصاف کی جھولی میں گرا تو عارف علوی صاحب کو منصب صدارت پر فائز کر دیا گیا ۔گو کہ یہ منصب نمائشی زیادہ ہے بہرحال آئین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کارہائے ریاست میں خصو صی اہمیت رکھتا ہے ۔جب تنازعات میں گھری تحریک انصاف کی حکومت کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد ختم ہوئی تو گمان یہ تھا کہ صدر محترم اپنے سیاسی مرشد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مستعفی ہو جائیں گے۔ توقعات کے برعکس عارف صاحب نے مستعفی ہونے کے بجائے بطور صدر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کو ترجیح دی۔ ہمارے تبریز میاں کاخیال ہے کہ علوی صاحب نے استعفے کے بجائے کرسی صدارت سے چپکے رہنے کو ترجیح دی ۔سیاسی مرشد پر مزاحمت کا دورہ پڑا ہوا تھا ،لیکن عارف علوی صاحب حکمت و تدبر کا نقاب اوڑھے ایوان صدر میں کارہائے منصبی نبھاتے رہے۔ بعض انصافی حضرات اس خوش گمانی میں مبتلا رہے کہ علوی صاحب سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا معجون استعمال کروا کر ثالثی فرمائیں گے،لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا بلکہ علوی صاحب پانچ برس سے کچھ زیادہ عرصہ کرسی صدارت کی شیرینی نوش فرماتےرہے ۔ان کے مخالفین علوی صاحب کو ایوان صدارت میں تحریک انصاف کا وفادار ترجمان قراردیتے رہے۔ قانون سازی سےمتعلق بعض اہم دستاویزات کے معاملے میں ان کا مشکوک رویہ تنقید کا شکار بنا ۔ صدر کے آئینی منصب کو جماعتی وفاداری کی بھینٹ چڑھا کر عارف علوی صاحب نے سیاسی دامن کو داغدار کر لیا۔
حالیہ امریکی یاترا کا معاملہ بھی کچھ کم مشکوک نہیں۔ جب تحریک انصاف کے بانی حکومت گنوانےکے بعد “جہاد امریکہ” میں مصروف تھے ،تو عارف علوی صاحب ایوان صدارت میں چپ سادھے بیٹھے رہے۔ دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں لیکن علوی صاحب امریکہ کے خلاف جاری سیاسی جہاد میں شرکت کے لیے آگے نہیں بڑھے ۔نو مئی کا فساد برپا ہوا تو علوی صاحب ایوان صدارت میں براجمان تھے ۔وہ افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر تھے ۔تحریک انصاف جس نام نہاد فالس فلیگ آپریشن کا واویلا مچاتی ہےکیا عارف علوی اس میں بطور سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسزشریک تھے؟ سوشل میڈیا پر عارف علوی صاحب کےایک انٹرویو کا تذکرہ کیاجارہا ہے۔ سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں علوی صاحب نے سانحہ جعفر ایکسپریس میں حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کو جھٹلا کر 32 سے زائد شہادتوں کا دعوی کیا ہےچونکہ ان کے نام کےساتھ سابق صدرلگا ہےلہذا عالمی میڈیا ان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کوبھی رپورٹ کرتاہے ۔بھارتی میڈیاکےبعد قومی سیاست میں علوی صاحب وہ اہم شخصیت ہیں جس نےشہادتوں کی تعداد نہایت مشکوک انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کی ہے۔موصوف فرماتے ہیں کہ بلوچستان میں پی ٹی آئی کی حکومت نہ بننے کی وجہ سے بلوچ نوجوان ہتھیاراٹھارہےہیں۔ ہماری تجویز ہےکہ سابق صدرکو پارلیمانی کمیٹی میں طلب کرکے باز پرس کی جانی چاہیے ۔کیا علوی صاحب ان سوالوں کے جوابات دینا پسند فرمائیں گے؟ اول ، سانحہ جعفر ایکسپریس میں ہونے والی شہادتوں کی تعداد کی تصدیق علوی صاحب نے کن ذرائع سے کی ہے؟ دوم ، اگر علوی صاحب کے پاس کوئی مصدقہ ذرائع نہیں تو پھر ان کے موقف اور بھارت کے شرانگیز پروپیگنڈے میں یکسانیت کی کیا تشریح کی جائے ؟ سوم، ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کو تحریک انصاف کا حامی قرار دے کر کیا علوی صاحب یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ بی ایل اے دراصل ان کی جماعت کا مسلح دہشت گرد ونگ ہے ؟۔ چہارم، آج بلوچ نوجوانوں کی محرومیوں پر مگرمچھ کےآنسو بہانے کے بجائے علوی صاحب یہ بتائیں کہ بطورصدرپاکستان،تحریک انصاف کےعہد اقتدار میں بلوچ نوجوانوں کی دادرسی کے لیےانہوں نے کیا قابل ذکر اقدامات کیے؟ پنجم، علوی صاحب کی امریکہ یاترا کے کیا مقاصد ہیں ؟کیا وہ نام نہاد رجیم چینج کاسراغ لگا رہے ہیں یا امریکہ سے حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے امریکی اراکین کانگرس اور عہدے داروں سے گریہ و زاری کر نے کے لئے سات سمندر پار گئے ہیں؟ علوی صاحب کو سابق صدر ہونے کے ناطے پارلیمانی کمیٹی میں طلب کیا جانا چاہیے ۔ اگر ان سے تسلی بخش جوابات نہ ملےتو اس صورت میں ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے تحریک انصاف کی سیاسی سسپنس فلم میں سابق صدربھی اصل وارداتیے” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عارف علوی صاحب علوی صاحب نے تحریک انصاف تبریز میاں رہے ہیں صاحب کو کے لیے
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔