جماعت اسلامی ( جے آئی ) اور انتظامیہ کے مابین معاملات طے پا گئے، ’فلسطین یکجہتی مارچ‘ کے تحت اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرف مارچ کے بجائے اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرہ کیا جائے گا۔
ترجمان جماعت اسلامی نے کہا کہ ’فلسطین یکجہتی مارچ‘ کے تحت اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرف مارچ نہیں کیا جائے گا، اس کے بجائے اب اسلام آباد ایکسپریس وے پر مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل، وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہائی سیکیورٹی والے ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا تھا، تاہم، مارگلہ گیٹ کو عوام کے لیے کھلا رکھا گیا تھا لیکن وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، کیونکہ جماعت اسلامی کے حامی غزہ میں اسرائیل کی خونی فوجی کارروائی کے درمیان فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے تھے۔
جماعت اسلامی اسلام آباد کے سیکرٹری اطلاعات عامر بلوچ نے آج کہا کہ پارٹی اسلام آباد ایکسپریس وے پر مارچ کرے گی کیونکہ ’ جے آئی اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔’
عامر بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ جماعت اسلامی نے ریڈ زون کی طرف مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب اسلام آباد ایکسپریس وے پر غزہ کے لیے مارچ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم زیرو پوائنٹ کے قریب مارچ کریں گے اور ایچ 8 اوور ہیڈ برج پر ایک اسٹیج بنایا جائے گا، جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سمیت ہمارے مرکزی قائدین ریلی سے خطاب کریں گے۔
جماعتِ اسلامی نے اصل میں یہ احتجاج اتوار کو سہ پہر 3 بجے ریڈ زون کے اندر امریکی سفارت خانے کے باہر کرنے کا شیڈول جاری کیا تھا۔، تاہم، لاک ڈاؤن کے بعد، جے آئی کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے ایک ویڈیو پیغام میں احتجاج کے لیے ایک متبادل مقام کا اعلان کیا، انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ فیض آباد کے قریب سری نگر ہائی وے کے خارجی راستے پر واقع زیرو پوائنٹ کی طرف روانہ ہوں۔
سڑکوں کی بندش اور شدید بارش کے باعث، تقریباً 3:45 بجے تک مظاہرین کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد زیرو پوائنٹ پر پہنچی تھی، انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیے۔ مظاہرین کا بڑا دستہ ابھی تک احتجاج کے نئے مقام پر نہیں پہنچا۔
گزشتہ ہفتے، کراچی کے ہزاروں شہریوں نے دو مذہبی سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام غزہ کے ساتھ یکجہتی مارچ میں شہر کی اہم سڑکوں پر جمع ہو کر غزہ میں اسرائیل کی خونی فوجی کارروائی کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
جماعت اسلامی کی پریس ریلیز کے مطابق، پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس مظاہرے میں شرکت کی، جن میں وکلاء، اساتذہ، تاجروں، ڈاکٹروں اور دیگر پیشہ ور افراد کی نمائندہ تنظیمیں بھی شامل تھیں۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق،’ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر، ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے، بشمول سرینا ( ہوٹل) ، نادرا، میریٹ اور ایکسپریس چوک’ کو مزید اطلاع تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں سیکرٹریٹ اور ریڈ زون جانے والے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ مارگلہ روڈ استعمال کریں، جبکہ راول ڈیم چوک سے فیض آباد اور راولپنڈی جانے والے شہری کشمیر چوک، سری نگر ہائی وے، نائنتھ ایونیو یا ڈبل روڈ استعمال کریں۔
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ ’ ایکسپریس چوک کے ذریعے کرال سے راولپنڈی جانے والے شہری اولڈ ایئرپورٹ روڈ، راول ڈیم روڈ اور نائنتھ ایونیو ڈبل روڈ استعمال کریں، اوجڑی لوپ سے ایکسپریس ہائی وے ڈھوک کالا خان سروس روڈ استعمال کریں، زیرو پوائنٹ فیض آباد کے لیے بند ہے۔’
پولیس نے فیصل ایونیو، راولپنڈی مری روڈ اور سری نگر ہائی وے کے ذریعے کرال جانے والے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نائنتھ نیو ڈبل روڈ، راول روڈ اور اولڈ ایئرپورٹ کرال چوک استعمال کریں۔
راول ڈیم چوک کے ذریعے فیض آباد سے مری سے اسلام آباد آنے والے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ بائیں جانب کرال چوک کی طرف مڑیں، اور کرال چوک سے پرانے ہوائی اڈے، راول روڈ راولپنڈی، مری روڈ اور ڈبل روڈ تک سفر کریں۔
پولیس نے مزید کہا کہ ’ نئے ہوائی اڈے سے مری/باہرہ کہو جانے والے شہری پشاور صدر روڈ استعمال کر سکتے ہیں۔’
مزید کہا گیا کہ ’ کشمیر ہائی وے سے، راول روڈ سے پرانے ہوائی اڈے تک نائنتھ ایونیو ڈبل روڈ استعمال کریں، پھر لترار روڈ، پھر پارک روڈ، راول ٹیم کشمیر چوک سے مری/باہرہ کہو تک جائیں۔’
اسلام آباد سے جانے والے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ فیصل ایونیو کے ذریعے راولپنڈی جانے کے لیے نائنتھ ایونیو ڈبل روڈ استعمال کریں، جبکہ مظفر گڑھ سے آنے والوں کو ایمبیسیڈر ہوٹل سیونتھ ایونیو یا جی-6 استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ ’ جی پی او چوک سے سیونتھ ایونیو یا فضل حق روڈ جناح ایونیو استعمال کریں۔’

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ایکسپریس وے پر ڈبل روڈ استعمال کریں نے والے شہریوں ریڈ زون کی طرف جماعت اسلامی اسلام ا باد ا زیرو پوائنٹ کیا جائے گا پر زور دیا جانے والے فیض ا باد مزید کہا کے ذریعے ا باد کے ہائی وے دیا گیا روڈ اور کہا کہ گیا کہ چوک سے کے لیے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی