وفاقی وزیر ریلوے  حنیف عباسی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں اسی تنخواہ پر کام کرتیں رہیں گی، افغانستان سے مذاکرات  وزیراعلی کے پی کے کہنے پر نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا فیصلہ ہے۔

راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کے لیے سہولیاتی سینٹر نئے او پی ڈی بلاک اور اضافی انتظار گاہ کے تعمیراتی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ آر آئی سی 13  سال پہلے بنا تھا، یہاں سے بیشمار لوگ مستفید ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب او پی ڈی میں روز تین ہزار مریض اور تین ہزار انکے ساتھ آنے آرہے تھے، آر آئی سی میں 40 کروڈ کی لاگت سے نیا او پی ڈی بلاک بن رہا ہے، اس پراجیکٹ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے فنڈز دئیے ہیں، پچیس کروڑ جاری ہوگے پندرہ کروڑ ابھی جاری ہونے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ او پی ڈی کا پہلا مرحلہ اس سال جون میں مکمل کرلیں گے، یہاں ہم ایک ویٹنگ ایریا بھی بنا رہے ہیں۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے دن رات ملک کی خدمت کرکے قوم کا اعتماد بحال کیا ہے، بین الاقوامی اشاریے بہتری کی نوید دے رہے ہیں، جو کہتے تھے پاکستان پیسے نہ بھیجیں، ان کی بات کسی نے نہیں بنی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان سب چیزوں سے مقدم ہےحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فائدہ بلوچستان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعلی پنجاب دن رات صوبے کی عوام کیلئے کام کررہی ہے۔سندھ میں بھی کام ہورہا ہےراولپنڈی میں تجاوزات کا ہم نے خاتمہ کیا۔پنجاب میں صحت پر ریکارڈ کام ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی سترہ سال سے حکومت ہے، راولپنڈی اسلام آباد میں سب سے زیادہ مریض کے پی سے آتے ہیں، کے پی میں صفائی کا نظام دیکھیں۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نام پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دینگے، فیڈریشن کو کسی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینگے،  مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں اسی تنخواہ پر کام کرتیں رہیں گی۔

افغانستان سے بات چیت وزیر اعلی کے پی کے کہنے پر شروع نہیں کی، حکومت کا فیصلہ ہے کہ بات چیت ہونی چاہیئے، ڈپٹی وزیر اعظم وہاں گے ہیں وہاں سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغانستان کے ساتھ جو بھی مسائل ہیں، ان کو وفاقی سطح پر دیکھا جارہا ہے۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ ریلوے کے آٹھ ڈی ایس ہیں سب کو کہا ہے کہ سرکار کی ایک انچ زمین پر کسی کا قبضہ نہیں رہنا چاہیے، صاف پانی صفائی اور بہتر کھانا ریلوے میں ہونے کو یقینی بنانے کے لیے فوڈ اتھارٹی والے اب چھاپے ماریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں ہمارے بہت سے خواب ہیں جن کی تکمیل چاہتے ہیں جب پی کے ایل آئی راولپنڈی کی کڈنی ٹرانسپلانٹ شروع کرے گا تو ہمارا ایک اور خواب پورا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے درمیان خونی سڑک کو اب بڑے پراجیکٹ میں تبدیل کرنے جارہے ہیں جس کے لیے پٹرولیم پرائس کی بچت وہاں منتقل کی جارہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی نے کہا کہ او پی ڈی کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر