رشبھ کو چنائی سُپر کنگز نے اسکواڈ حصہ کیوں نہیں بنایا؟ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) 2025 میں مسلسل ناکامی کی تصویر بنے رشبھ پنت کے بارے میں ایک اور حیران کُن انکشاف سامنے آگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چنائی سپر کنگز (سی ایس کے) نے آئی پی ایل 2025 کے پلئیرز ڈرافٹ میں رشبھ پنت کو شامل کرنے کی دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن کپتانی کے تنازع کی وجہ سے نہیں ہوسکا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہندرا سنگھ دھونی نے وکٹ کیپر بیٹر رشبھ پنت سے رابطہ کیا تھا، جس پر انہوں نے کپتانی کی شرط رکھی جبکہ فرنچائز انتظامیہ انہیں بطور پلئیر اسکواڈ کا حصہ بنانا چاہتی تھی۔
فرنچائز نے رشبھ پنت کو روتوراج گییکواڑ کو کپتانی سپرد کرنے سے پہلے ٹیم میں فٹ ہونے کا موقع دینے کی بھی پیشکش کی تھی، اس سلسلے میں چنائی سپر کنگز نے صرف 2 کھلاڑیوں کو ہی برقرار رکھا تاکہ پنت کو خریدنے کیلئے بجٹ رکھا جاسکے۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ رشبھ پنت کے کپتانی کے اصرار پر فرنچائز نے مزید 3 کھلاڑیوں کو برقرار رکھا۔
ادھر رشبھ پنت کو لکھنؤ سپر جائنٹس نے کپتانی کا عہدہ دیا لیکن انکی ٹیم آئی پی ایل 2025 میں مسلسل ناکامیوں کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے۔
رپورٹس پر چنائی سپر کنگز کی انتظامیہ نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پنت کو
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔