آئی ایم ایف رپورٹ‘ رواں سال پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 3.6 سے کم کرکی2.6 فیصد کردی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2025ء)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی جس میں رواں سال پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 3.6سے کم کرکی2.6 فیصد کردی اورآئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 2.
(جاری ہے)
آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ اس سے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 1 فیصد لگایا گیا تھا۔
آئی ایم ایف نے امریکی صدر ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف کے اقدامات کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے عالمی اقتصادی نمو کو بھی تبدیل کردیا ہے۔آئی ایم ایف نے نئی پیش گوئی اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ اپریل 2025 میں کی ہے۔ 2.6فیصد شرح نمو کا تخمینہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے تخمینے 3.6فیصد سے کافی کم ہے۔اگلے مالی سال کیلئے آئی ایم ایف نے پاکستان کی شرح نمو کا تخمینہ 3.6فیصد لگایا۔ رواں مالی سال آئی ایم ایف نے پاکستان میں افراط زر میں بہتری کا اندازہ لگایا اور اسے 10فیصد سے کم کرکے 5.1فیصد کردیا۔ اگلے سال افراط زر کے 7.7فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ایک اور مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے کرنٹ اکاو?نٹ خسارے کے تخمینے کو جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم کرکے 0.1فیصد کردیا ہے۔قبل ازیں آئی ایم ایف کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.7 بلین ڈالر تک بڑھنے کی توقع کر رہا تھا جسے اب 400ملین ڈالر تک کم کردیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اگلے مالی سال بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.4فیصد رہنے کی توقع ہے۔یاد رہے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر مس کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کیت ھی۔ وزیر خزانہ اورنگزیب نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پہلے جائزے اور لچک اور پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف) کے تحت ایک نئے انتظام پر سٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے پر آئی ایم ایف ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خزانہ نے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے مس کرسٹالینا جارجیوا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔آئی ایم ایف نے امریکی صدر ٹرمپ کے تجارتی پالیسی اقدامات کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے 2025 کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کی رینج 2.4سے 2.8تک کردی ہے۔آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجارتی تناؤ میں تیزی سے اضافے نے انتہائی اعلیٰ سطح پر ابہام پیدا کر دیا ہے۔ دو اپریل سے پہلے کی پیش گوئی کے تحت عالمی شرح نمو کا تخمنیہ 2025اور 2026 کے دونوں سالوں کے لیے 3.2فیصد لگایا گیا تھا۔جنوری 2025 WEO اپ ڈیٹ کے مقابلے میں دونوں سالوں میں سے ہر سال کے لیے یہ تخمینہ 0.1 فیصد پوائنٹ کم ہے۔عالمی تجارتی نمو بھی 2025 میں 1.7 فیصد پوائنٹ پر سست ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف کے جنوری 2025کے ورلڈ اکنامک آوٹ لک اپ ڈیٹ کے بعد اس میں 1.5فیصد پوائنٹ کی کمی آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔