پاکستان میں کرپٹو کرنسی کب قانونی ہونے جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو اب تک کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں لیکن حکومت کی جانب سے کرپٹو کونسل کے قیام سے اس چیز کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اب حکومت کرپٹو کرنسی کو قانون کے دائرے میں لانے کے حوالے سے دلچسپی رکھتی ہے۔
رواں برس کے ابتدائی مہینوں میں حکومت کی جانب سے کرپٹو کونسل کا قیام تو کردیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد خاموشی دیکھی گئی ہے، اس وقت کرپٹو کونسل میں کرپٹو کرنسیوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے حوالے سے کیا پیشرفت ہو رہی ہے؟ کب تک کرپٹو پاکستان میں قانونی حیثیت اختیار کر سکتی ہے؟ وی نیوز نے ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان کرپٹو کونسل کا بٹ کوائن مائننگ کے لیے اضافی بجلی استعمال کرنے کا مشورہ
حکومت کی جانب سے کرپٹو ایڈوائزری سے منسلک معاملات کو دیکھنے والے اور ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد ظفر پراچہ نے کہاکہ کونسل کے حوالے سے جتنی تیزی سے کام ہوا تھا، اب ایسا لگ رہا ہے کہ عالمی سطح پر دیگر معاملات آڑے آنے کی وجہ سے کرپٹو سے منسلک کاموں میں سستی آچکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ گوکہ کونسل اپنا کام کررہی ہے لیکن مجھے کرپٹو کرنسیاں ملک میں اتنی جلدی قانونی شکل اختیار کرتے ہوئے نظر نہیں آتیں، اس کا فریم ورک تیار کرنے میں وقت لگے گا، کیونکہ کسی بھی ملک میں ابھی تک اس پر اتنا زیادہ کام نہیں ہوا اور پاکستان تو ان کے سامنے چھوٹی سی معیشت ہے۔
عالمی سطح پر مہنگائی اور دوسرے فیکٹرز پر گفتگو کرتے ہوئے ظفر پراچہ نے کہاکہ بہت تیزی سے چیزیں بدل رہی ہیں، جیسے سونے کی قیمت میں اضافہ، تجارت کے مسائل، ٹیرف وار اور دیگر ایشوز شامل ہیں، اس لیے کرپٹو کے بارے میں کافی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا پڑے گا، کیونکہ کرپٹو کرنسی کا ریٹ تیزی سے بدلتا ہے۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹس ہیک بھی ہو جاتے ہیں، فی الحال کرپٹو میں سرمایہ کاری اتنی محفوظ نہیں، ہمیں بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ امریکی دباؤ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کرپٹو کے حوالے سے باتیں کی تھیں اس سے پاکستان میں بھی معاملے جلدی سے آگے بڑھے، اور ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہی اس کو قانونی قرار دے دیا جائے گا۔
’کرپٹو کے حوالے سے کافی زیادہ کام کی ضرورت ہے، اور ابھی اس پر کام ہو بھی رہا ہے، اس بارے میں یہ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سارے فریم ورک کو تیار ہونے میں کتنا وقت لگے گا، مگر میرے اندازے کے مطابق قریباً ایک سال کا وقت مزید درکار ہوگا۔‘
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو کی قانونی حیثیت جہاں پاکستان کو باقی دنیا کے ساتھ دوڑ میں شامل کر سکتی ہے، وہیں پر اس کا پاکستان میں استعمال پاکستان کے حق میں اتنا مفید نہیں ہے۔
’چونکہ کرپٹو کرنسیاں ڈالرز میں خریدی جاتی ہیں اور جیسا کہ حکومت کرپٹو کونسل بنا رہی ہے، اگر کرپٹو کو ریگولرائز کردیا جاتا ہے تو لوگ بینکوں کے ذریعے اگر کرپٹو خریدتے ہیں تو بینک کو کرپٹو ایکسچینجز کو ڈالر میں ادائیگیاں کرنا پڑیں گی، اس لیے اگر قوانین کا مؤثر نفاذ نہیں ہوتا تو زرمبادلہ کے انخلا کا خطرہ یقینی طور پر پیدا ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے خطرات کم ہوتے ہیں، چونکہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے تو پاکستان جیسے ممالک میں زرمبادلہ کے انخلا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اگر حکومت اس شعبے پر ہر پہلو سے چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام ہو جائے۔‘
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کرپٹو کو ریگولرائزڈ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ لوگ ملک میں اسے غیرقانونی طور پر اب بھی خرید رہے ہیں، جس کے باعث اسلحے کی خریداری، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم جنم لے رہے ہیں۔ اس لیے جب اسے قانونی قرار دے دیا گیا تو ان تمام غیرقانونی سرگرمیوں میں بھی کمی آئے گی، کیونکہ جب چیک اینڈ بیلنس ہوگا تو اس کے حوالے سے قوانین بھی ہوں گے، تو یہ تمام جرائم بھی کم ہوں گے۔
پاکستان کرپٹو کونسل کیا ہے؟پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا ایک ادارہ ہے، جس کا مقصد بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کی ترقی، انضمام اور ضابطہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور ترقی پسند فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
کلیدی پالیسی سازوں، ریگولیٹری سربراہان اور صنعت کے ماہرین پر مشتمل یہ کونسل پاکستان میں ایک جدید اور محفوظ ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان کی ڈیجیٹیل اثاثہ جات مارکیٹ جس سے 10 لاکھ سے زیادہ پاکستانی منسلک ہیں بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
کرپٹو کونسل کے قیام سے ملک کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب کے مطابق ایک بہترین ریگولیٹری فریم ورک پاکستان میں ڈیجیٹیل اثاثوں کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لا سکتا ہے۔
ان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں کرپٹو کرنسی میں صرف ایک سال جولائی 2023 سے جون 2024 تک 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اسے قانونی حیثیت دینے سے پاکستان کو بھی ریونیو حاصل ہوگا اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح یہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع بھی پیدا کرے گی کیونکہ ایک قانونی فریم ورک کے بعد اس میں نئی کمپنیاں داخل ہو پائیں گی۔
پاکستان میں کرپٹو کے کاروبار سے کتنے افراد منسلک ہیں؟پاکستان میں کرپٹو کے شعبے میں غیر رسمی طور پر کام ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق قریباً 2 کروڑ پاکستانی کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کے پاس کرپٹو کرنسی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان کرپٹو کونسل بالآخر قائم کردی گئی، اس کی ذمے داریاں کیا ہیں؟
مالی سال 21-2020 میں پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تجارت حکومت پاکستان فریم ورک قانونی حیثیت قانونی شکل کرپٹو کرنسی کرپٹو کونسل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حکومت پاکستان قانونی حیثیت قانونی شکل کرپٹو کرنسی کرپٹو کونسل وی نیوز پاکستان کرپٹو کونسل کرپٹو کونسل کے قیام پاکستان میں کرپٹو حکومت کی جانب سے میں کرپٹو کرنسی قانونی حیثیت کے حوالے سے کے مطابق کرپٹو کے سے کرپٹو نے کہاکہ تیزی سے کے لیے اس لیے کام ہو رہی ہے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن