بھارتی فوج کا کسانوں کو 48 گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بھارتی فوج کا کسانوں کو 48 گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی بوکھلاہٹ کھل کر سامنے آ گئی ہے، بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے سرحدی علاقوں کے کسانوں کو 48 گھنٹوں میں فصلوں کی کٹائی مکمل کرنے اور کھیت خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ورنہ ان کے کھیتوں تک رسائی بند کر دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی ایس ایف کی جانب سے جاری کردہ سخت ہدایت نے پنجاب کی سرحدی برادریوں، خصوصاً امرتسر، ترن تارن، فیروز پور اور فاضلکہ کے ہزاروں کسانوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ گاؤں کے گردواروں میں اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر کھیت خالی نہ کیے گئے تو بارڈر گیٹس بند کر دیے جائیں گے۔
بھانگلا گاؤں کے کسان رگھبیر سنگھ نے بتایا، ’بی ایس ایف اہلکار دو دن سے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جلد از جلد کام مکمل کرو، ورنہ راستے بند کر دیے جائیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ جانوروں کے چارے کے لیے بھوسہ انتہائی ضروری ہوتا ہے، اور اگر کام مکمل نہ ہوا تو کسان سال بھر مشکل میں رہیں گے۔
بھارت کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ بی ایس ایف نے مزید زرعی مشینری کی سرحدی علاقوں میں منتقلی کی اجازت دی ہے تاکہ کسان جلدی سے کھیت خالی کر سکیں۔ لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ دو دن میں اتنا بڑا کام مکمل کرنا ناممکن ہے اور وہ خوفزدہ ہیں کہ حالات مزید خراب ہوئے تو آئندہ دھان کی فصل کیسے بوئیں گے؟
فیروز پور ضلع کے راجہ رائے گاؤں کے لکشویندر سنگھ نے کہا کہ ’اگرچہ گندم کی 80 فیصد کٹائی مکمل ہو چکی ہے، مگر بھوسہ اکٹھا کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔‘
بی ایس ایف حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مزید خراب ہو چکے ہیں، اور کئی سرحدی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
سرکاری موقف کے مطابق، بی ایس ایف کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے کیونکہ کچے کھیت سرحدی نگرانی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
حیران کن طور پر، جب سوشل میڈیا پر ان اعلانات کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو امرتسر کی ڈپٹی کمشنر سکشی ساونی نے دعویٰ کر دیا کہ ’بی ایس ایف کی جانب سے کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔‘ انہوں نے شہریوں کو ”افواہوں“ پر دھیان نہ دینے کی ہدایت کی۔ مگر کسانوں کی براہِ راست شکایات اور گرودواروں سے نشر ہونے والے اعلانات نے بھارتی حکومتی دعووں کو بے نقاب کر دیا۔
سرحدی علاقوں کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات یونہی رہے تو وہ بی ایس ایف کے اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر زیادہ سے زیادہ مشینیں فراہم کی جائیں تاکہ فصل کی کٹائی مکمل ہو سکے۔
بھارت میں سرحدی کسان آج اپنی زمینوں اور روزگار کے لیے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اور یہ سب بھارت کی اپنی پالیسیوں کی ناکامی اور سرحد پر پیدا کی گئی مصنوعی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے روایتی جنگ کا آغاز کیا تو بھارت بھی محفوط نہیں رہے گا، جنگ کا آغاز بھارت کرے گا مگر اختتام پاکستان کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپہلگام واقعے پر بھارت کی حقائق چھپانے کی ناکام کوشش پہلگام واقعے پر بھارت کی حقائق چھپانے کی ناکام کوشش پاناما اور نہرسویزسے امریکی جہازوں کومفت سفرکی اجازت ہونی چاہیے، ٹرمپ اسرائیلی فورسز کی غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری، مزید 40 فلسطینی شہید غزہ: حماس نے تمام قیدیوں کی رہائی، 5 سالہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کردی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بچہ بچہ سرحد پر کٹ مرنے کو تیار ہے، شیخ وقاص اکرام اسحاق ڈار کے آذربائیجان، مصر اور ترکیہ کے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کسانوں کو
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب