آئی ایس آئی، آئی بی نے ارشد چائے والا کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ پیش کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی جس کے باعث ارشد خان چائے والا کی شہریت سے متعلق معاملہ لٹک گیا جب کہ دوران سماعت آئی ایس آئی، آئی بی نے ارشد چائے والا کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔
رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد حسن نے سماعت کی، دوران سماعت نادرا نمائندہ نے ارشد خان بابت مزید رپورٹ پیش کرنے کی مہلت مانگی جو منظور ہوگئی۔
ارشد چائے والا کے وکیل نے بھی مزید جواب کیلئے التواء کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد تنولی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے عدالتی حکم پر آئی ایس آئی اور آئی بی نے ارشد کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ پیش کردی۔
رپورٹ کے مطابق ارشد چائے والا کا پہلے نام زر خان ولد باز محمد خان ہے، عدالتی حکم پر آئی ایس آئی اور آئی بی نے ارشد کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ پیش کردی۔
رپورٹ کے مطابق ارشد چائے والا کا پہلے نام زر خان ولد باز محمد خان ہے۔
پٹیشنر کے مطابق ارشد خان چائے والا 1999 کو اسلام آباد علاقہ شاہ اللہ دتہ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول شاہ اللہ دتہ میں ہی حاصل کی، والد باز خان 1984 کا پاکستانی پاسپورٹ بنا 1989 میں سعودی عرب مزدوری کیلئے گیا۔
پٹیشن میں کہا گیا کہ ارشد خان 17 سال عمر سے اتوار بازار اسلام آباد چائے اسٹال لگاتا ہے، ارشد کو 2017 میں نادرا شناختی کارڈ 2016 میں پاسپورٹ بنا، نادرا ۔پاسپورٹ آفس نے تمام ڈاکومنٹس چیک کر کے آئی ڈی کارڈ ،پاسپودٹ بنایا۔
پٹیشن میں کہا گیا کہ آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے، شناختی کارڈ ۔پاسپورٹ بلاک کرنے سے سائل کا چائے بزنس تباہ ہوگیا، ارشد چائے والا عالمی مشہوری سے سوشل میڈیا سے پاکستان کو بھاری زر مبادلہ بھی ملا۔
پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ ارشد خان چائے والا نا کبھی افغانستان گیا نا افغان شناختی کارڈ پاسپورٹ ہے، غریب فیملی کا فرد ہے 1978 سے قبل کی پراپرٹی رجسٹری مانگی جارہی ہے۔
ارشد خان چائے والا 1999 کو اسلام آباد علاقہ شاہ اللہ دتہ میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول شاہ اللہ دتہ میں ہی حاصل کی، والد باز خان 1984 کا پاکستانی پاسپورٹ بنا 1989 میں سعودی عرب مزدوری کیلئے گیا، ارشد خان 17 سال عمر سے اتوار بازار اسلام آباد چائے اسٹال لگاتا ہے۔
ارشد کو 2017 میں نادرا شناختی کارڈ 2016 میں پاسپورٹ بنا۔نادرا ۔پاسپورٹ آفس نے تمام ڈاکومنٹس چیک کر کے آئی ڈی کارڈ ،پاسپودٹ بنایا، آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے، شناختی کارڈ ۔پاسپورٹ بلاک کرنے سے سائل کا چائے بزنس تباہ ہوگیا۔
پٹیشن کے مطابق ارشد چائے والا عالمی مشہوری سے سوشل میڈیا سے پاکستان کو بھاری زر مبادلہ بھی ملا، ارشد خان چائے والا نا کبھی افغانستان گیا نا افغان شناختی کارڈ پاسپورٹ ہے۔غریب فیملی کا فرد ہے 1978 سے قبل کی پراپرٹی رجسٹری مانگی جارہی ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ ارشد خان چائے والا پاسپورٹ بلاک کرنے ارشد چائے والا کے مطابق ارشد ا ئی ایس ا ئی ا ئی ڈی کارڈ شناختی کارڈ پاسپورٹ بنا اسلام ا باد رپورٹ پیش پیش کردی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔