راولپنڈی:

اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے ان کی بہنیں اور متعدد رہنما و وکلا پہنچے مگر عدالتی حکم کے باوجود انہیں پولیس ناکے پر روک دیا گیا، ملاقات نہ ہوسکی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آج بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا دن ہے ان سے ملنے کے لیے  بشری بی بی کے فوکل پرسن رائے سلمان احمد کھرل ایڈووکیٹ، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء چوہدری ظہیر عباس، عثمان ریاض گل، بشری بی بی کی بھابی مہرالںساء، بانی پی ٹی آئی کے ترجمان نیاز اللہ نیازی، راجہ یاسر، نعیم پنجوتھہ، وکیل ابوذر سلیمان نیازی پہنچے، سید اقبال شاہ، سردار زین العابدین، عبد الحکیم زرین، محب اللہ کاکڑ پر مشتمل بلوچستان وکلا کا وفد بھی اڈیالہ جیل پہنچا۔

بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان اور کزن قاسم خان کو پولیس نے گورکھپور ناکے پر روک دیا، اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنے والے وکلا کو پولیس نے جیل کے داخلی دروازے سے ہٹا دیا، پولیس نے وکلاء کی گاڑیاں بھی جیل کے داخلی دروازے سے ہٹادیں جس پر پولیس اور وکلا کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے گورکھ پور ناکے سے جیل تک مارچ شروع کردیا۔ علیمہ خان، عظمی خان، نورین خان اور قاسم خان اڈیالہ روڈ پر پیدل چلتے رہے،فیملی نے اڈیالہ جیل گیٹ نمبر پانچ جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے نجی فارما سوٹیکل کمپنی کے سامنے قائم ناکہ پر انہیں روک دیا، خاتون پولیس اہلکار سے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی دھکم پیل بھی ہوئی۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو بھی پولیس بے داہگل ناکے پر روک دیا۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کو داہگل ناکے پر روک لیا گیا۔

بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنا غیر مناسب ہے، عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے، لارجر بنچ اور سنگل بینچز کے آرڈر موجود ہیں، ابھی تک ایک بھی عدالتی آرڈر پر عمل نہیں ہوا، جب ہم انڈیا کے خلاف متحد ہوکر جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں تو ایسے میں رکاوٹیں ڈالنا نامناسب عمل ہے، بانی پی ٹی آئی پاکستان کے مقبول لیڈر ہیں ان سے ایسے حالات میں مشاورت ضروری ہے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات میں انہیں بتایا کہ آپ اپنے احکامات پر عمل درآمد کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملاقات ہوئی تو بانی پی ٹی آئی سے انڈیا کے ساتھ تناؤ پر بات کریں گے، بانی پی ٹی آئی نے پہلے بھی کہا تھا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے، انڈیا میں پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی کی مذمت کرتا ہوں، پاکستانی میڈیا پر پابندی سے انڈیا کے سیکولرازم کا پردہ چاک ہوگیا ہے، انڈیا اپنے غلط بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے، پی ٹی آئی نے واضح کہا ہے انڈیا کے اقدامات کا بھر پور جواب دیا جائے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انڈیا کیلئے فضائی حدود بند کرنا بہترین اقدام ہے، ہم نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اعلامیے کی حمایت کی ہے، انڈیا کے اقدامات کے مقابلے میں پاکستان نے جو بھی فیصلے کیے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔

فیصل جاوید  اور فیصل فرید چوہدری ایڈووکیٹ اڈیالہ جیل پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما سینیٹر علی ظفر بھی اڈیالہ جیل پہنچے جنہیں پولیس نے داہگل ناکے پر روک دیا۔

بشری بی بی کی بھابھی مہر النساء احمد ملاقات کے لئے گیٹ 5سے جیل کے اندر روانہ ہوگئیں جن کی ملاقات کرادی گئی۔ فیصل فرید چوہدری، شائستہ کھوسہ جیل کے گیٹ نمبر پانچ پہنچ گئے۔ وکلاء ظہیر عباس چوہدری، مبشر مقصود اعوان بھی جیل گیٹ نمبر پانچ پہنچ گئے۔ ہارون نواز پنجھوتھہ اور محمود اشرف جوئیہ بھی گیٹ پانچ پہنچ گئے۔ بلال عمر بودلہ ایڈووکیٹ بھی گیٹ نمبر پانچ پہنچ گئے۔

پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج پاکستان کیلئے ہم نے بانی سے ملاقات کرنی تھی، آج بہت ضروری ہے ملاقات دی جائے، بانی نے کلیئر ہدایت دی تھی لسٹ کو چھوڑیں جسے ملنے دیا جائے ملنے دیں، ہم بانی پی ٹی آئی کے سپاہی ہیں
ملاقات نہ کرانے کا مقصد بانی کو قید تنہائی میں رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی سے ملاقات نہ کرانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ پارٹی منتشر رہے، انڈیا کے ساتھ تناؤ سیاست کا ایشو نہیں ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، بانی نے پہلے بھی کہا تھا ہم بہادر قوم ہیں جواب دینے کا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کے ناکے پر روک دیا پانچ پہنچ گئے اڈیالہ جیل سے ملاقات انڈیا کے پولیس نے جیل کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے