عمران خان کو فوری رہا کیا جائے تاکہ قوم سرحدوں کے دفاع میں متحد ہو سکے، پی ٹی آئی اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ قوم اپنی مقدس سرحدوں کے دفاع میں متحد ہو سکے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب قومی اتحاد اور قابل اعتماد قیادت ناگزیر ہے، ملک کی قیادت ایک خاموش اور غافل حکومت کر رہی ہے جبکہ اس کا سب سے قابل اعتماد رہنما پابند سلاسل ہے۔
وزیراعظم مودی کی قیادت میں، آر ایس ایس کے نظریے کے تحت چلنے والا ہندوستان علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ہم اس جنگ کی حمایت اور تسلط کے خطرناک عزائم کی شدید مذمت کرتے ہیں جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کے خلاف ہم متحد ہیں: عمران خان کا جیل سے اہم پیغام
حکومت کی بے عملی کے بالکل برعکس، بالاکوٹ کے ہیرو عمران خان جیل کی دیواروں کے پیچھے سے طاقت اور واضح ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ قریباً 2 سال کی غیر منصفانہ قید، قانونی اور خاندانی رسائی سے انکار کے باوجود، وہ واحد رہنما ہیں جو پاکستان کی خودمختاری کے دفاع اور قومی اتحاد کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا پیغام واضح ہے: ’امن ہماری ترجیح ہے، لیکن اسے بزدلی نہیں سمجھنا چاہیے۔‘
بحران کی اس گھڑی میں عمران خان کی قیادت ناگزیر ہے۔ان کی قوم کو متحرک اور متحد کرنے کی صلاحیت، قومی سلامتی پر ان کی ساکھ اور غیر متزلزل عزم بے مثال ہیں۔ اس نازک وقت میں عمران خان کو خاموش اور قید تنہائی میں رکھنا محض ناانصافی نہیں ہے، یہ ملک و قوم سے دشمنی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ قوم اپنی مقدس سرحدوں کے دفاع میں متحد ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان پہلگام پی ٹی آئی عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان پہلگام پی ٹی ا ئی کے دفاع
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔