میچ کے دوران اسٹینڈ میں بیٹھا شائق 20 فٹ بلندی سے گرگیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
بیس بال میچ کے دوران اسٹینڈ میں بیٹھا ایک شائق 20 فٹ بلندی سے گرگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 اپریل کو امریکی ریاست پٹسبرگ میں کھیلے جارہے بیس بال مقابلے میں ایک شائق کو اسٹینڈ سے گرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بلیچرز ٹیم کا مداح 20 فٹ (تقریباً 7 میٹر) اونچائی سے گرا، جس کے باعث شدید زخمی ہوا۔
میچ کے دوران شائق کے گرنے کے بعد ایمبولنس کے ذریعے اُسے فوری اسپتال منتقل کردیا گیا ہے تاہم اسکی حالت نہایتی تشویشناک ہے۔
دوسری جانب واقعے کے بعد کھلاڑیوں نے شائق کیلئے ہمدردی کا اظہار کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔