پہلگام فالس فلیگ حملہ سیکیورٹی کی ناکامی ہے، را کے سابق سربراہ نے اعتراف کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
نئی دہلی:بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے اعتراف کیا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ حملہ سیکیورٹی کی ناکامی ہے، پہلگام میں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی۔ جنگ کا مطلب نیوکلیئر جنگ ہے۔ کشمیری مسلمانوں پر بھارت میں تشدد غلط ہے۔
بھارتی را کے سابق سربراہ نے پہلگام واقعہ کو سیکیورٹی ناکامی قراردے دیا، را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت کا اعترافی بیان سامنے آ گیا۔
امر جیت سندھ دولت نے اعترافی بیان میں کہا کہ پہلگام واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی ہے، پہلگام میں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی، جنگ کا مطلب نیو کلیئر جنگ ہے، جنگ آخری اور بدترین آپشن ہے۔
سابق سربراہ را امرجیت سنگھ کہا کہنا ہے کہ پہلگام کے ثبوت دینے سے معاملہ عالمی سطح پر پھیل جائے گا، کشمیری مسلمانوں پر بھارت میں تشدد غلط ہے، پہلگام حملے میں کشمیریوں کا کوئی قصور نہیں۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بیان پہلگام واقعہ کے فالس فلیگ ہونے کا واضح اقرار ہے، بی جے پی نے ہر دور حکومت میں فالس فلیگ حملے کئے۔
ماہرین نے کہا کہ بی جے پی نے انتہا پسند ہندوؤں کو بھڑکایا اور ان سے سیاسی فائدہ اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے سابق سربراہ فالس فلیگ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔