اسرائیلی یونٹ بیاسی سو کیا بلا ہے ( حصہ دوم )
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
گزشتہ مضمون میں یہ بھی بتایا گیا کہ یونٹ بیاسی سو میں جو نوجوان تین برس خدمات انجام دے لیتے ہیں ان کی نہ صرف ہائی ٹیک کی صنعت میں مانگ بڑھ جاتی ہے بلکہ وہ خود بھی کمپنیاں قائم کر سکتے ہیں۔ان میں سے متعدد نوعمر کمپنیاں اے آئی کی نئی دنیا کا ہراول دستہ ہیں اور اسرائیلی و دیگر ممالک کی دفاعی صنعت میں بطور کنٹریکٹر خدمات دینے کے ساتھ ساتھ معروف ہائی ٹیک کمپنیوں کے نئے منصوبوں اور تحقیق میں بھی اشتراک کرتی ہیں۔
یونٹ بیاسی سو کا نام تب زیادہ مشہور ہوا جب چھ ستمبر دو ہزار سات کو اسرائیلی فضائیہ نے شام کے علاقے دیر الزور میں قائم ایک مبینہ ایٹمی مرکز کو تباہ کر دیا۔آپریشن آرچرڈ نامی اس مشن میں یونٹ بیاسی سو کے تیار کردہ الیکٹرونک آلات سے مسلح طیاروں نے بھی حصہ لیا جنھوں نے شامی ریڈار سسٹم کو اندھا کر کے آسمان بالکل صاف دکھایا تاوقتیکہ اسرائیلی مشن باحفاظت مکمل نہیں ہو گیا۔
اسرائیل نے کہیں گیارہ برس بعد ( دو ہزار اٹھارہ) شامی جوہری مرکز تباہ کرنے کا اعتراف کیا۔جب کہ بشارالاسد حکومت نے بھی خفت سے بچنے کے لیے مسلسل چپ سادھے رکھی۔ اعتراف کی صورت میں یہ بھی قبولنا پڑتا کہ یہ خفیہ جوہری مرکز کیا کیوں کیسے کام کر رہا تھا۔
دو ہزار دس میں یونٹ بیاسی سو نے ایرانی جوہری پروگرام پر سائبر حملہ کیا اور یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والے لگ بھگ تین سے پانچ ہزار سینٹری فیوجز کو سٹکسنیٹ وائرس کے ذریعے ناکارہ کر دیا۔دو ہزار سترہ میں لبنان کی سرکاری ٹیلی کام کمپنی اوگیرو پر سائبر حملہ ہوا جس سے مواصلاتی نظام چند دن کے لیے درہم برہم ہو گیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے پر برقیاتی نگرانی کا جال تو خیر چپے چپے پر ہے۔دو ہزار چودہ میں تینتالیس ریزرو فوجیوں نے کھلے خط میں ان لاکھوں فلسطینی شہریوں کی الیکٹرونک نگرانی کی مذمت کی جو پرتشدد کارروائیوں کا حصہ نہیں تھے۔
مگر یونٹ بیاسی سو پر سب سے زیادہ تنقید سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے حماسی حملے کے بعد ہوئی جب اسرائیل کا غزہ کی الیکٹرونک نگرانی کا نظام دھرا رہ گیا۔ شدید تنقید کے سبب یونٹ بیاسی سو کے اس وقت کے انچارج سے ذمے داریاں واپس لے لی گئیں۔
ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوا کہ دو ہزار بائیس میں حماس کی دستی ریڈیو کمیونیکیشن کی نگرانی وقت اور وسائل کا ضیاع فرض کر کے روک دی گئی۔حماس گزشتہ کئی برس سے بظاہر خاموش تھی اور حماس کا مسلح بازو القسام بریگیڈ جو ’’ جنگی مشقیں ‘‘ کرتا تھا اسرائیلی عسکری اور سراغرساں اسٹیبلشمنٹ انھیں بچوں کے بہلاوے کے طور پر دیکھتی رہی۔
حماس کے حملے سے تین ماہ قبل جولائی دو ہزار تئیس میں یونٹ بیاسی سو کے ایک تکنیکی تجزیہ کار نے اپنی مواصلاتی تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا کہ حماس کسی بڑی کارروائی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔غزہ کے اردگرد الیکٹرونک آلات سے مسلح واچ ٹاورز پر ڈیوٹی دینے والا یونٹ بیاسی سو کا نچلا عملہ صاف صاف حماس کی غیر معمولی مسلح مشقوں کو نہ صرف دیکھ رہا تھا بلکہ ان کی تفصیلات بھی اوپر بھیج رہا تھا۔
ان مشقوں میں خاردار تاریں کاٹنے ، یرغمال بنانے اور یرغمالیوں کو اپنے ساتھ لانے سمیت ہر وہ مشق شامل تھی جس پر سات اکتوبر کو حرف بہ حرف عمل ہوا۔مگر سینیر قیادت یہ تصور ہی مضحکہ خیز سمجھتی رہی کہ حماس جیسی کمزور تنظیم انتہائی مستعد اور طاقتور اسرائیلی فوجی مشین سے سر ٹکرانے کی حماقت کر سکتی ہے۔حماس نے سات اکتوبر کو سب سے پہلے واچ ٹاورز کے سنتریوں کو ہی نشانہ بنایا۔ان میں سے صرف دو زندہ بچ سکے۔
البتہ سات اکتوبر اسرائیل کے لیے یوں اہم موڑ ثابت ہوا کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کے ٹولز کو عسکری منصوبہ بندی ، اہداف اور دشمنوں کی نشان دہی اور خاتمے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا۔اگرچہ اے آئی ماہرین متفق تھے کہ یہ ٹیکنالوجی ابتدائی تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے غلطیوں سے پاک کرنے کے لیے بہت کام باقی ہے۔مگر اسرائیل نے اس ٹیکنالوجی کو غزہ کے لاکھوں لوگوں پر ایسے بے دریغ طریقے سے استعمال کیا جیسے نئی ایجادات و ادویات کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے۔
ویسے بھی نسل پرست صیہونی نظریے کے مطابق یہودی ایک برگزیدہ قوم ہیں اور دیگر اقوام بالحضوص عرب ان سے ہر اعتبار سے کمتر ہیں۔ اسرائیلی نظریاتی اسٹیبلشمنٹ کے پچھلے پچھتر برس کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ فلسطینی نیم انسان بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے والے جانور ہیں۔
ظاہر ہے کہ اس سوچ کے ساتھ فلسطینیوں پر سب سے پہلے اگر ہر نیا ہتھیار اور ٹیکنالوجی آزمائی جائے اور اس دوران اس کے غلط اور تباہ کن استعمال کو اسی طرح بہتر بنایا جائے جیسے کسی جانور پر آزما کے نئی جدت کی خامیوں پر قابو پایا جاتا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے ؟
اسرائیل نے دو ہزار اکیس میں غزہ پر فوج کشی کے دوران دو اے آئی ٹول ’’ گوسپل ’’ اور ’’ لیونڈر‘‘ محدود پیمانے پر استعمال کیے مگرموجودہ نسل کشی میں یہ دونوں ٹول نہائیت اطمینان سے استعمال ہو رہے ہیں۔دونوں اے آئی پروگرامز میں جو ممکنہ ڈیٹا فیڈ کیا گیا ہے اس کی بنیاد پر گوسپل ان عمارتوں اور ٹھکانوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں حماس کے مسلح ارکان ہو سکتے ہیں۔جب کہ لیونڈر ’’ مشتبہ دھشت گرد ‘‘ چہروں کی نشاندھی اور تجزیہ کر کے اپنی رائے دیتا ہے۔اس تجزیے کی بنیاد پر ہی کسی عمارت یا اسٹرکچر کی تباہی یا انسانی قتل کا فیصلہ ہوتا ہے۔ڈیٹا فیڈنگ میں فون کالز کی ٹریکنگ سے ملنے والا مواد ، گھروں اور ان کے مکینوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔
اے آئی کے ٹارگٹ روم میں کام کرنے والے ایک سابق افسر نے امریکی ٹائم میگزین کو بتایا کہ چند برس پہلے تک ڈیڑھ سو سے دو سو ٹارگٹ منتخب کرنے کے لیے بیس سے پچیس ماہرین کی ٹیم سال میں ڈھائی سو دن کام کرتی تھی۔مگر اے آئی کی مدد سے اب اتنے ہی ٹارگٹ ہفتے بھر میں منتخب ہو جاتے ہیں۔
اس شعبے سے منسلک چھ سابق افسروں نے آن لائن اسرائیلی میگزین پلس نائن سیون ٹو کو بتایا کہ انسانی اہداف منتخب کرنے میں لیونڈر پروگرام دس فیصد تک غلط ثابت ہوا ہے۔مگر کسی بھی طرح کی بازپرس سے آزاد کمانڈروں کو اس خامی کی کوئی پرواہ نہیں۔ان کے پاس ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی منظوری کے لیے صرف بیس سیکنڈ ہوتے ہیں۔چنانچہ وہ لیونڈر کے تجزیے کو حرف بحرف درست سمجھ کر آخری حکم دے دیتے ہیں۔لیونڈر نے صرف غزہ میں سینتیس ہزار شہریوں کی نشاندہی کی ہے جن کا حماس سے براہِ راست یا بلاواسطہ ’’ تعلق ’’ ہے۔
دو ہزار اکیس کے معرکے میں کسی بھی ٹارگٹڈ عمارت پر حملہ کرنے سے پہلے مکینوں کو اشتہار گرا کے یا فون کال کے ذریعے یا ایک ہلکا پھلا دھماکا کر کے کچھ وقت کی مہلت دی جاتی تاکہ وہ عمارت خالی کر دیں۔مگر موجودہ نسل کشی میں یہ تکلف بھی برطرف ہوگیا ہے۔نئے جنگی ضوابط کے مطابق حماس کے ایک عام مسلح حامی کو ہلاک کرنے کی کارروائی میں اگر پندرہ سے بیس بے گناہ شہری یا ایک کمانڈر کو ہدف بنانے کے دوران ایک سو شہری بھی مارے جاتے ہیں تو یہ نقصان اسرائیلی کمان کے لیے قابلِ قبول ہے۔
مثلاً اسرائیلیوں کو سات اکتوبر کے حملے کے ایک اہم کردار یعنی القسام بریگیڈ کی جبالیہ بٹالین کے کمانڈر ابراہیم بیاری کی تلاش تھی۔اسرائیل نے فون کالز اور گوسپل اور لیونڈر اے آئی ٹولز کی مدد سے اسے ٹریس کر لیا۔مگر جس سرنگ میں ابراہیم بیاری کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی وہ گنجان آبادی میں کثیرالمنزلہ عمارات کے نیچے تھی۔مگر ایک ٹارگٹ کو ختم کرنے کے لیے بلادریغ بمباری کی گئی اور ڈھائی سو کے قریب بے گناہ لوگ ایک ابراہیم بیاری کے بدلے مارے گئے۔ حالانکہ ابراہیم کو کسی اور وقت سرجیکل اسٹرائک کے ذریعے بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا جیسا کہ اسرائیل کرتا آیا ہے۔کیونکہ فلسطینی من حیث القوم اسرائیل کے نزدیک ’’ نیم انسان ‘‘ ہیں۔لہٰذا بے گناہ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں سے زیادہ اہم ٹارگٹ ہے۔یہی سوچ ہے جس کے سبب اب تک ہونے والی باون ہزار ہلاکتوں میں عورتوں اور بچوں کی تعداد ستر فیصد ہے۔ ( جاری ہے )
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یونٹ بیاسی سو سات اکتوبر اسرائیل نے اے ا ئی میں یہ کے لیے
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو