پاک فوج کے سابق افسران نے پہلگام حملے کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کے ہمراہ 20 لاکھ سے زائد ایکس سروس مین بھی ملکی دفاع کے لیے تیار ہیں اور قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ بھارت کو کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پہلگام فالس فلیگ آپریشن سےمتعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل ریٹائرڈ جاوید اسلم طاہر کا کہنا تھا کہ ہم جو کچھ بھی ہیں پاکستان اور افواج پاکستان کی وجہ سے ہیں اور ہم اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

’بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کیا، بھارت کو کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ملکی دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن: پاک فوج کی جنگی تیاریاں عروج پر

ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ فہیم ارشد کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئرفورس ٹیکنالوجی اور مین پاور دونوں میں ملکی دفاع کے لیے تیار ہے، 2019 میں ہم نے بھارت پر اپنی فضائی برتری ثابت کی تھی، پاکستان ایئر فورس میں ملک کے بہترین بچے تربیت حاصل کرکے کندن بن کر نکلتے ہیں۔

’ہماری مین پاور وہی ہے جس نے اسرائیل کے جہاز گرائے تھے، ہماری مین پاور دنیا کی بہترین ہے اور ہماری ٹیکنالوجی بھی بھارت سے بہتر ہے، سب سے بڑھ کر ہمارا جذبہ سب سے الگ ہے، جس کا بھارت مقابلہ نہیں کرسکتا۔‘

ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ فہیم ارشد کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی طرح پاک فضائیہ کے سابق باصلاحیت ٹیکنیکل افراد مشکل وقت میں ملکی دفاع کے لیے ادنیٰ سے ادنیٰ ذمہ داری بھی نبھانے کے لیے تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن: پاکستانی میڈیا کا بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب، جھوٹا بیانیہ دفن

میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری کا کہنا تھا کہ ایکس سروس مین کی پریس کانفرنس کا مقصد پاک فوج کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرنا ہے، ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے، بھارت کی فالس فلیگ آپریشن کی بہت پرانی تاریخ ہے، اس سے قبل صدر کلنٹن کے دورے کے موقع پر سکھوں کا قتل کیا تھا اور اس مرتب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے دورہ بھارت پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن کیا گیا۔

میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری کے مطابق بیشتر حملوں کو خود بھارتی تحقیقات میں ہی فالس فلیگ ثابت قرار دیا جاچکا ہے، لیکن اس نوعیت کے واقعات سے بھارت کو پاکستان کو بدنام کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری کا کہنا تھا کہ پہلگام فالس فلیگ منصوبہ دنیا کے سامنے ناکام ہوچکا ہے، اس واقعہ کی 10 منٹ میں ایف آئی آردرج ہوتی ہے، پہلگام واقعہ پر چین ہمارے ساتھ ہیں۔ ’ہماری فوج دنیا کی بہتری فوج ہے، ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن: بھارتی جنگی جنون کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم و جبر کا شکار

بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد جمیل کا کہنا تھا کہ سندھ کے سب غازی ملکی دفاع کے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، نہ صرف سابق فوجی بلکہ حر مجاہد سمیت قوم کا ہر فرد دفاع وطن کے لیے تیار ہے، اب نعرہ لگ رہا ہے کہ تم نہیں آتے تو ہم آتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکس سروس مین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکس سروس مین پہلگام فالس فلیگ ا پریشن میجر جنرل ریٹائرڈ ملکی دفاع کے لیے کے لیے تیار ہیں کا کہنا تھا کہ پاک فوج

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار