پہلگام فالس فلیگ: بھارت نے بغیر کسی جنگ کے پاکستان سے شکست تسلیم کر لی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزامات لگانے کی بھارتی کوششیں عالمی سطح پر ناکام ہو گئیں، اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان نے بھرپور انداز میں مؤقف پیش کرتے ہوئے بھارت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تمام پانچ ویٹو پاور ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا، جس پر بھارت میں بھی مودی حکومت پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی تجزیہ کاروں نے اپنی ویڈیوز اور بیانات میں مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ آج پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، اور بھارت سفارتی محاذ پر تنہا ہو چکا ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ فرانس، امریکہ، برطانیہ، روس اور چین، جنہیں بھارت اپنے قریبی اتحادی سمجھتا تھا، سبھی نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت کی اور بھارت کا مؤقف مسترد کر دیا۔
تجزیہ کار کے مطابق وہ فرانس جس سے ہم رافیل خریدتے ہیں، وہ امریکہ جس سے ہم نے اربوں روپے کے ہتھیار خریدے، یہاں تک کہ روس اور چین بھی، سب پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں جب پاکستان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کا نام نہ لیا جائے تو کسی بھی ویٹو پاور ملک نے مخالفت کی ہمت نہ کی۔
پاکستان نے پہلگام حملے کو ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ پاکستانی نمائندے نے واضح طور پر کہا کہ بھارت نے آج تک اس حملے سے متعلق کوئی ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کیا۔
بھارتی تجزیہ کار نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پالیسی نہ جنگ کی ہے نہ امن کی، جبکہ عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ سفارتی طور پر پس رہی ہے۔ جنگ کی صورت میں پسے گی تو بھارتی عوام، اور ہمیں اپنی لاشیں خود ہی اٹھانی پڑیں گی.
ادھر پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری اور سلامتی کونسل میں واضح مؤقف کو ملک کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ