بزدلانہ بھارتی حملوں میں 26 پاکستانی شہری شہید، ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا، پاکستان مناسب وقت اور مقام پر بھارتی جارحیت کے جواب کا حق رکھتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ رات کی تاریکی میں کیے گئے بزدلانہ بھارتی حملوں میں کم از کم 26 پاکستانی شہری شہید جبکہ 46زخمی ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران 26 شہریوں کے شہید جبکہ 46 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے پانچ بھارتی طیارے مار گرانے کی بھی تصدیق کی۔ بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے علاقوں کوٹلی، مظفر آباد اور باغ کے علاوہ مریدکے اور احمد پور شرقیہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو مساجد شہید ہوئیں جبکہ ایک بچی سمیت 8 پاکستانی شہید اور 35 زخمی ہوئے۔ دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی حملے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا، پاکستان مناسب وقت اور مقام پر بھارتی جارحیت کے جواب کا حق رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی جارحیت
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔