ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے پاکستان کی سر فہرست لسٹڈ کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس اور انکشافات کے طریقوں پر کثیر الجہتی مذاکرہ کی میزبانی کی transparency international WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز

کراچی(سب نیوز)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کارپوریٹ گورننس اور لسٹڈ کمپنیوں کے انکشافات کے طریقوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اعلی سطحی کثیر الجہتی مذاکرہ کا انعقاد کیا۔ اس معلوماتی تقریب میں پاکستان کی سر فہرست کمپنیوں، ریگولیٹری اداروں بشمول کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان، پاکستان سٹاک ایکسچینج، وزارت خزانہ، وزارت انسانی حقوق، چیمبرز آف کامرس اور کارپوریٹ گورننس کے ماہرین کے نمائندوں نے شرکت کی۔کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے رکن جناب سلمان امین نے ٹی آئی پاکستان کی کارپوریٹ رپورٹنگ میں شفافیت (ٹریک)2024 کی تازہ ترین رپورٹ کی تعریف کی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنیاں اوسطا کارپوریٹ رپورٹنگ میں معتدل طور پر شفاف ہیں، جس کا اسکور 100 میں سے 7.

23 ہے، جہاں 0 کم سے کم شفاف اور 10 مکمل طور پر شفاف ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موثر انکشافات بدعنوانی کے مواقع کو کم کرتے ہیں جیسے کہ کارٹل کا رویہ۔ انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ خریداری کے عمل میں شفافیت کلیدی ہے اور یہ ضروری ہے کہ کمپنیاں سرکاری معاہدوں کے بارے میں جامع انکشافات کریں، بشمول بولی دہندگان کی پالیسیوں، ٹینڈرنگ کے عمل، ایوارڈ کے بعد کے دستاویزات اور آڈٹ شدہ مالیاتی اکانٹس کی تفصیلات۔ ایسی معلومات کو عوامی طور پر قابل رسائی بنانا اسٹیک ہولڈرز اور عوام کے درمیان اعتماد اور احتساب کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔مقررین نے زور دیا کہ پاکستان میں کارپوریٹ گورننس اچھی طرح سے قائم ہے اور کارپوریٹ گورننس کی حقیقی روح کارپوریٹ سالمیت ہے جسے تعمیل کے بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ گورننس کی ترجیح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انسانی حقوق، بدعنوانی کے خلاف، صنفی مساوات اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری پر رضاکارانہ انکشافات کو اعتماد پیدا کرنے اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھا جانا چاہیے۔
مقررین نے یہ بھی اجاگر کیا کہ پاکستان ای ایس جی انکشافات کے معاملے میں دور اندیش رہا ہے، اصل چیلنج بہتر انکشافات کے ذریعے ای ایس جی کے طریقوں کے مثر اختیار کو یقینی بنانا ہے۔وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈی جی ایس او ایز جناب ماجد نعیم صوفی نے اجاگر کیا کہ سی ایم یو نے کارپوریٹ خطرات پر باقاعدہ رپورٹس شائع کرنے اور ان رپورٹس کو عوامی طور پر دستیاب کرنے کے ذریعے ہر چیز کو انتہائی شفاف بنا دیا ہے۔ سی ایم یو کا مقصد سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز)کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات عام لوگوں کو دینا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے کارپوریٹ گورننس میں بہتری کی ضرورت ہے جس میں بورڈ کی آزادی اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید اجاگر کیا کہ ای ایس جی کے معیارات اور ایس ای سی پی کے رہنما اصول رضاکارانہ ہیں اور سی ایم یو نے سفارش کی ہے کہ موسمیاتی خطرات کو لازمی رپورٹنگ کے ذریعے کمپنیوں پر پابند ہونا چاہیے۔
وزارت انسانی حقوق کی ڈپٹی ڈائریکٹر محترمہ خولہ بتول شیرانی نے اجاگر کیا کہ کاروبار کے لیے انسانی حقوق کا ایکشن پلان کاروباروں سے انسانی حقوق اور مناسب مستعدی پر عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب کاشف علی نے اجاگر کیا کہ ٹریک کی تشخیص سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے کم اوسط اسکور، 47.28 فیصد، بدعنوانی کے خلاف پروگراموں میں دیکھا گیا، جو جزوی شفافیت کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لکی کور انڈسٹریز، الائیڈ بینک لمیٹڈ اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ وہ کمپنیاں تھیں جنہوں نے تشخیص میں سب سے زیادہ مجموعی اسکور حاصل کیے۔ تاہم، کسی بھی کمپنی نے انکشافات کے طریقوں میں شفافیت کے لیے مکمل مجموعی اسکور حاصل نہیں کیا۔ جبکہ کولگیٹ-پامولیو(پاکستان)لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ اور اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ نے بدعنوانی کے خلاف پروگراموں کے زمرے میں سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔اس مذاکرے نے پاکستان میں کاروبار کے لیے ایک مضبوط سالمیت کے ماحولیاتی نظام کو مشترکہ طور پر تخلیق کرنے کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی میڈیا پر مقبوضہ کشمیر پر حملے کی خبریں فیک اور جھوٹ ہیں، سیکورٹی ذرائع بھارتی حملے کا ممکنہ خطرہ، ملک کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ پی ایم اے اسلام آبادکا ہنگامی اجلاس، اسپتالوں کی نجکاری کا منصوبہ مسترد وفاقی وزیر صحت کا بھارت سے بغیر علاج بھیجے گئے 2 بچوں کا علاج سرکاری خرچ پر کرانے کا اعلان ملک بھر کے44اضلاع سے حاصل 22نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کے پی حکومت کا صحت کارڈ میں تین بڑی بیماریوں کا علاج شامل کرنے کا فیصلہ عیدالاضحی پر کانگو اور ہیٹ اسٹروک کی روک تھام کیلئے ایڈوائزری جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انکشافات کے طریقوں کارپوریٹ گورننس پاکستان کی

پڑھیں:

فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ

دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام