پاکستان نے بھارت کی ننگی جارحیت کے جواب میں صرف اپنا دفاع کیا، سیکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
پاکستان نے اب تک اپنے تمام ایکشنز سے واضح طور پر ثابت کر کے دکھایا ہے کہ پاکستان نے بھارتی ننگی جارحیت کے جواب میں کیے گئے تمام ایکشنز صرف اپنے دفاع میں کیے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارتی ننگی جارحیت کے جواب میں صرف اپنا دفاع کیا ہے، جبکہ بھارت نے پچھلے 48 گھنٹوں میں صرف اور صرف پاکستان پر بِلا اشتعال جارحیت کی ہے جس کے نا قابل تردید ثبوت پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں حملے سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں، سیکیورٹی ذرائع
ہر روز اپنی نئی ہزیمت اور ناکامی کو چھپانے کے لیے بھارتی گودی میڈیا بھارتی حکومت کے لیے صبح شام جھوٹ بولتا ہے، ہیروپ ڈرون ڈرامہ کی ناکامی کے بعد اب بھارت مقبوضہ کشمیر اور راجستان میں من گھڑت اور جھوٹے حملے کی خبریں بھارتی میڈیا پر چلا کر اپنی ناکام جارحیت کو جاری رکھنے کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بھارت اب تک جھوٹ اور پروپیگنڈا کے علاوہ پاکستان کے خلاف کوئی ایک بھی ثبوت نہیں دے سکا، بھارتی جھوٹ اور پروپیگنڈا اب پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے کیونکہ دنیا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ایف 16 گرانے کی خبر سفید جھوٹ اور فیک، سیکیورٹی ذرائع
پاکستان نے اب تک اپنے تمام ایکشنز سے واضح طور پر ثابت کر کے دکھایا ہے کہ پاکستان نے بھارتی ننگی جارحیت کے جواب میں کئے گئے تمام ایکشنز صرف اپنے دفاع میں کیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت پاکستان جعلی خبریں دفاع سیکیورٹی ذرائع فیک نیوز مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان جعلی خبریں دفاع سیکیورٹی ذرائع فیک نیوز ننگی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھارت سیکیورٹی ذرائع تمام ایکشنز
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔