عمران خان سے ملنے نہ دیا تو مریم نواز بھی کے پی میں اپنے گھر نہیں جا سکیں گی، گنڈاپور کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے دھمکی دی ہے کہ انہیں عمران خان سے ملنے نہ دیا گیا تو مریم نواز بھی کے پی میں اپنے گھر نہیں جا سکیں گی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جاتے ہوئے روکے جانے پر ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عدالت نے مجھے توہین عدالت کے کیس میں ملاقات کی اجازت دی ہے، اگر ملنے نہیں دیا جاتا تو دوبارہ توہین عدالت کی درخواست دائر کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں صوبے کے سارے کام چھوڑ کر ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ مجھے عمران خان سے ملاقات کی سب سے کم اجازت دی جاتی ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا تھا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی کے پی کے میں اپنے گھر نہیں جا سکتیں۔
واضح رہے کہ آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا دن ہے اور ان سے ملنے کے لیے ایم پی اے سہیل آفریدی، ایم این اے شاہد خٹک، محسن جتوئی اور دیگر رہنما گورکھ پور ناکا پہنچے جب کہ کچھ رہنما اڈیالہ جیل پہنچے اور اپنے نام کا اندراج کروایا۔
اسی دوران وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کو گورکھ پور ناکے پر روک لیا گیا، جہاں ان کے ساتھ پولیس کے مذاکرات بھی ہوئے۔ علی امین گنڈاپور نے پروٹوکول سے ہٹ کر پیدل جیل کی جانب جانے کی کوشش کی اس موقع پر پولیس اہل کاروں کے ساتھ ان کا سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان علی امین گنڈاپور کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔