امریکا-برطانیہ معاہدے کا اثر : بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
واشنگٹن / لندن / نیویارک: دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن نے ایک لاکھ ڈالر کی سطح عبور کرلی۔
رواں سال فروری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بٹ کوائن اس حد تک پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان حالیہ معاشی معاہدہ ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔
بٹ کوائن کی موجودہ قیمت 1,01,329 امریکی ڈالر تک پہنچی، جو ایک دن میں 4.
ایتھریم (Ether) کی قیمت بھی 14 فیصد اضافے سے 2,050 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو مارچ کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔
کرپٹو ٹریڈنگ پلیٹ فارم Nexo کے شریک بانی انٹونی ٹرینچیف کے مطابق، ایک لاکھ ڈالر کی سطح پر واپسی بٹ کوائن کی طاقت کی نشانی ہے، خاص طور پر جب گزشتہ ماہ اس کی قیمت 74 ہزار ڈالر تک گر چکی تھی۔
ادھر فن ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قدر میں اضافے کی وجوہات میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی، جغرافیائی کشیدگی میں کمی، اور چین کے معاشی محرکات بھی شامل ہیں۔ البتہ دیگر کرپٹو کرنسیز جیسے ایتھرم اب بھی گزشتہ سال کی بلند سطح سے 50 فیصد نیچے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بٹ کوائن کی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔