یہ کوکین نہیں ٹشو پیپر ہے، صدر میکرون پر کوکین کے استعمال کے الزام پر فرانس کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
انتہائی دائیں بازو کے روس نواز اکاؤنٹس کی جانب سے اس دعوے کے ساتھ ایک تصویر گردش میں لانے کے بعد کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون دیگر یورپی رہنماؤں کے ہمراہ کوکین سونگھ رہے ہیں، فرانس نے وضاحت کی ہے کہ ویڈیو میں موجود سفید ٹشو ناک صاف کرنے کے لیے تھا، کوکین کی پڑیا نہیں۔
یوکرین کی حمایت میں یورپی اتحاد کے مظاہرے میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر، نئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے ہفتے کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف کا دورہ کیا اور صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات چیت کی۔
????DEVELOPING: Macron, Starmer, and Merz caught on video on their return from Kiev.
— Dr. Simon Goddek (@goddeketal) May 11, 2025
یورپی رہنماؤں نے روس سے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر سے شروع ہونے والی 30 روزہ جنگ بندی کی کال کو قبول کرے، انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کر دے گا تو اس کیخلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
جب ٹرین کے ذریعے سفر کر رہے تھے، میڈیا کے ذریعے بنائی گئی ایک ویڈیو میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کو برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا استقبال کرتے ے ہوئے دکھایا گیا۔
مذکورہ ویڈیو کے مطابق جب وہ ایک میز کے گرد کرسیوں پر بیٹھ گئے تو صدر میکرون میز پر کوئی سفید چیز اٹھاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ فریڈرک مرز بھی میز پر کچھ جھاڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی وزیر اعظم پولینڈ فرانس فرانسیسی صدر میکرون ولادیمیر زیلینسکی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی وزیر اعظم پولینڈ میکرون ولادیمیر زیلینسکی
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔