خیبرپی کے ‘ بلوچستان 2جوان شہید ‘ بھارتی حمایت یافتہ 12خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد‘کوئٹہ (خبرنگارخصوصی‘ نمائندہ خصوصی ‘اپنے سٹاف رپورٹر سے ‘نوائے وقت رپورٹ) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پی کے میں پانچ کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 12خوارج کوہلاک کردیا‘2کوگرفتار کرلیا گیا اور دوجوان شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق 17 اور 18 مئی کو سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاع پر خیبر پی کے میں خوارج کے خلاف کارروائیاں کیں، پہلی کارروائی لکی مروت میں کی گئی جس کے دوران دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ 5 خوارج ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں ایک اور کارروائی کے دوران دو بھارتی حمایتی یافتہ خوارج کو ہلاک کیا گیا جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی قافلے پر فائرنگ کرنے والے خوارج کو جوابی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں سپاہی فرہاد علی طوری (عمر 29 سال، سکنہ ضلع کرم) اور لانس نائیک صابر آفریدی (عمر 32 سال سکنہ ضلع کوہاٹ) نے جام شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کے خاتمے کیلئے مذکورہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور سکیورٹی فورسز بھارتی حمایت یافتہ خوارج و دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ سکیورٹی فورسز اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کو ختم کر کے وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم اور مضبوط کرتی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 17 اور 18 مئی کو بلوچستان میں خفیہ اطلاع پر 2 الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ، نام نہاد بلوچ لبریشن فرنٹ سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد ہلاک کئے۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ضلع آواران کے علاقے گِشکور میں ایک آپریشن کیا، جس میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ آپریشن کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو موثر طریقے سے نشانہ بنایا جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد یونس مارا گیا اور دو دہشت گرد زخمی ہوئے جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ فورسز نے دوسری کارروائی ضلع کیچ کے شہر تربت میں کی اور دو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں، گروہ کیلئے سرغنہ صبر اللہ اور دہشت گرد امجد عرف بچھو کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاڑ کرنے کی بھارتی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری‘وزیراعظم شہباز شریف ‘وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان اور خیبر پی کے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں خوارج ہلاک کرنے پر جوانوں کوخراج تحسین پیش کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز میں بھارتی فورسز نے کے دوران
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔