پاکستان کیخلاف جنگ کے دوران اسرائیل کے لوگ بھی بھارت میں موجود تھے لیکن ہم نے فتح پائی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے لئے سعودی عرب اور یو اے ای میں سے کسی ایک مقام کا تعین کریں گے، مذاکرات کے دوران امریکا بنیادی کردارادا کرے گا، جنگ کے دوران اسرائیل کے لوگ بھارت میں موجود تھے لیکن ہم نے فتح پائی۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لئے قطعاً کوئی درخواست نہیں کی تھی، اگر ہم نے جنگ بندی کی درخواست کی ہوتی تو عالمی برداری بتا دیتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈی جی ملٹری آپریشنز کی گفتگو میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کی افواج جنگ سے پہلی پوزیشن پر جائیں گی، دونوں ممالک کی افواج پہلے والی پوزیشن پر کب جائیں گی اس کاٹائم فریم بھی نہیں بتا سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے لئے سعودی عرب اور یو اے ای میں سے کسی ایک مقام کا تعین کریں گے، مذاکرات کے دوران امریکا بنیادی کردارادا کرے گا، مشیر قومی سلامتی و ڈی جی آئی ایس آئی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پسرور میں ایک چوکی پر ہماری افواج نے ڈٹ کر مقابلہ اور پیچھے نہیں ہٹے، حالانکہ پسرور کی اس چیک پوسٹ پر ایک جوان اور8 شہری شہید ہوئے، پسرور چیک پوسٹ ہمارے بہادر سپاہی آخری فوجی تک لڑ ے اور اپنی چیک پوسٹ کو نہیں چھوڑا۔
وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران کیا اسرائیلی بھارت میں موجود تھے، انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیل کے لوگ بھارت میں موجود تھے لیکن ہم نے فتح پائی۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ کے کرم سے ہماری فتح ہوئی، پاکستان نے بھارت پر حملے میں جوالفتح میزائل استعمال کیا وہ پاکستان کا اپنا بنایا ہوا تھا، آرمی چیف نے اس پوری جنگ کو تمام افواج کی طرف سے لیڈ کیا، ہم نے دعائے خیر بھی کی اور پھر فتح بھی نصیب ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ رات ڈھائی بجے مجھے آرمی چیف کا غصے سے بھرا فون آیا، آرمی چیف نے فون پر کہا کہ بھارت نے حملے کی تیاری کرلی ہے، میں نے آرمی چیف کو کہا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، بھارت کو جواب دیں، آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے ملک کو جو معاشی اوردفاعی لحاظ سے بہت آگے ہے کو بھرپور جواب دیا، بھارت خود کو علاقے کا ایس ایچ او سمجھتا تھا، ہم نے اس کا غرور توڑا، ہم نے صر ف اور صرف اللہ کی رضاکے لئے ملک کی حفاظت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بھارت کو ایسا جواب دیا کہ اس کاگھمنڈ توڑدیا، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری خوشحالی اوردفاع ساتھ ساتھ چلیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کاکول اکیڈمی میں دنیا کو آفر کی تھی کہ پہلگام حملے کی تحقیقات کروالیں ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، دنیا نے پاکستان کی بات کوتسلیم کیااورہماری غیرجانبدارارنہ آفر کو قبول بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلے حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے تباہ کئے، ڈرون گرائے، یہ ہمارا ماسٹر اسٹروک تھا، ہم نے بھارت کاایس یو400سسٹم تباہ کیا، ہم بھارت کے مزید طیارے بھی گراسکتے تھے لیکن ہم نے مکمل احتیاط برتی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم علاقے میں امن چاہتے تھے اور اس جنگ کی آگ کو بڑھانا نہیں چاہتے تھے جس کی وجہ سے ہم نے تحمل کامظاہرہ کیاورنہ ہم ان کے پرخچے اڑاسکتے تھے، جنگ کے دوران ہمارے تمام دفاعی اداروں میں مکمل کوآرڈی نیشن موجود تھا۔
وزیراعظم نے ہنستے ہوئے کہا آج بھی ہم نے چینی ٹیکنالوجی کابھرپورفائدہ اٹھایا ہے، ہم دنیا بھرمیں چین کی مارکیٹنگ کنٹری بن گئے ہیں، جنگ کے دوران ترکیہ، سعودی عرب، یواے ای، آذربائیجان نے ہمارا بے پناہ ساتھ دیا، چین ہمارے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے فرنٹ سے لیڈ کیا، ہم نے اسی لیے ان کو فیلڈ مارشل بنایا ہے، وزیراعظم سے صحافیوں نے سوال کیا کہ آرمی چیف کو تو فیلڈ مارشل بنادیا گیا ہے، آپ کیا بنے ہیں، وزیراعظم نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ مجھے پولیٹیکل فیلڈ مارشل کہہ لیں۔
صحافیوں نے سوال کیا کہ تحریک انصاف کے لوگوں کو دیگر ممالک میں بھیجے جانے والے وفود میں شامل کیوں نہیں کیا گیا، وزیراعظم نے جواب دیا کہ دیگر ممالک میں جو وفود جا رہے ہیں وہ حکومتی سطح پر جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کچھ لوگوں نے بھارتی چینلز پر بیٹھ کرجو گفتگو کی ہے، اس کے بعد کیا ہم یہ رسک لے سکتے ہیں کہ ان کو ایسے مذاکرات میں جاکر بیٹھایا جائے۔
وزیراعظم کو جنگ جیتنے پر سینئر صحافیوں نے مبارک باد دی، وزیراعظم اور صحافیوں کے درمیان ملاقات میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ،وزیردفاع خواجہ آصف ،وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ، احسن اقبال، مصدق ملک، سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان اور پی آئی او مبشر حسن بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت میں موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ تھے لیکن ہم نے جنگ کے دوران مذاکرات کے جواب دیا آرمی چیف نے بھارت کے لئے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔