ایم کے اسٹالن نے کہا کہ کیا بی جے پی چاہتی ہے کہ گورنر بلوں کی منظوری میں لامحدود تاخیر کر سکیں، کیا مرکز کی نیت اپوزیشن کی حکومتوں کو مفلوج کرنے کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ وفاقیت پر ضرب لگا رہی ہے اور گورنروں کو اپوزیشن کی ریاستی حکومتوں کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے ایکس پر تمل ناڈو کے وزیراعلٰی ایم کے اسٹالن کے ایک سخت بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے، ایک ایسا یونین جو مختلف ریاستوں پر مشتمل ہے، جن کی اپنی الگ آواز ہے۔ مودی حکومت ان آوازوں کو دبانے اور منتخب ریاستی حکومتوں کو روکنے کے لئے گورنروں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ یہ وفاقیت پر ایک خطرناک حملہ ہے اور اس کی مزاحمت ہونی چاہیئے۔ راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے حال ہی میں سپریم کورٹ سے اس معاملے پر رائے مانگی ہے کہ کیا گورنر کے پاس اسمبلی سے منظور شدہ کسی بل کو منظوری دینے میں غیر معینہ مدت تک تاخیر کرنے کا اختیار ہے، اس آئینی سوال کو لے کر ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اس سے پہلے 15 مئی کو ایم کے اسٹالن نے اسی معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا "میں مودی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں کہ وہ پہلے سے طے شدہ آئینی پوزیشن کو، جسے سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے، بدلنے کی کوشش کر رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ تمل ناڈو کے گورنر بی جے پی کی ہدایت پر ریاستی اسمبلی کے فیصلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایم کے اسٹالن نے سوال اٹھایا کہ گورنروں کے لئے وقت کی حد طے کرنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔ کیا بی جے پی چاہتی ہے کہ گورنر بلوں کی منظوری میں لامحدود تاخیر کر سکیں؟ کیا مرکز کی نیت اپوزیشن کی حکومتوں کو مفلوج کرنے کی ہے۔

انہوں نے تمام غیر بی جے پی ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ اس "آئینی لڑائی" میں ساتھ آئیں اور ریاستی خودمختاری کا دفاع کریں۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر گورنر اسمبلی سے منظور شدہ کسی بل پر غیر معینہ مدت تک کوئی کارروائی نہ کرے تو یہ وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ کئی ریاستیں پہلے ہی اس طرز عمل پر ناراضگی ظاہر کر چکی ہیں۔ راہل گاندھی اور ایم کے اسٹالن کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل مرکز اور ریاستوں کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اُن ریاستوں میں جہاں اپوزیشن جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ حزبِ اختلاف کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو وفاقی ڈھانچہ شدید متاثر ہو سکتا ہے اور عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی مودی حکومت بی جے پی رہی ہے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل