کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مئی2025ء)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر مواصلات علیم خان کے درمیان اپنی اپنی ٹیموں کے ہمراہ ایک تفصیلی اجلاس ہوا جس میں زیر التوا مسائل ایم 6 حیدرآباد کراچی موٹروے کی تعمیر، لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کے لیے کھولنے، سہراب گوٹھ پر ٹریفک کے مسائل کا انجینئرنگ حل تلاش کرنے، جامشورو سیہون روڈ کی تکمیل اور بندرگاہی ٹریفک کو براہ راست حیدرآباد لے جانے کے لیے ایک اضافی موٹروے (ایم 10 )کی تعمیر پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعلی سندھ کی معاونت سینئر وزیر شرجیل میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ناصر شاہ، وزیر تعمیرات علی حسن زرداری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری تعمیرات نواز سوھو اور سیکریٹری بلدیات وسیم معظم نے کی۔

(جاری ہے)

وفاقی حکومت کے وفد میں سیکریٹری مواصلات علی شیر محسود، چیئرمین این ایچ اے صاحبزادہ شہریار، این ایچ اے کے اراکین مظہر شاہ، عبد اللطیف مہیسر، رمیش الیاس اور دیگر شامل تھے۔

مذاکرات کا مرکز ایم 6 حیدرآباد سکھر موٹروے، قومی شاہراہیں، جامشورو سیہون روڈ، لیاری ایکسپریس وے سمیت اہم انفرا اسٹرکچر منصوبے شامل تھے۔ وزیراعلی مراد علی شاہ نے ایم 6 موٹروے کی تکمیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی سے پشاور اور لاہور تک موٹروے نیٹ ورک کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کراچی پورٹ کو ملک کے دیگر حصوں سے موٹروے کے ذریعے نہ جوڑا جائے، اس پورے نیٹ ورک کا مقصد مکمل نہیں ہوتا۔

انہوں نے وزیر اعظم کی ہدایات کے تحت منظور ہونے کے باوجود ایم 6 منصوبے میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر علیم خان نے کراچی پورٹ کے ساتھ موٹروے کے انضمام کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پورے راستے میں مکمل رابطے کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ ایم 6 منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سے تین حصوں کے لیے فنڈنگ حاصل کر لی گئی ہے جبکہ باقی حصے پر کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ منصوبہ وفاقی حکومت، کمرشل بینکوں اور کچھ حصوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)کی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس پر وزیراعلی نے پی پی پی ماڈل میں پیچیدگیوں کے باعث منصوبے میں ممکنہ تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور منصوبے کو تیز کرنے کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے 40 سے 50 ارب روپے کی برج فنانسنگ کی پیشکش کی۔

وزیراعلی نے زور دیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایم 6 پر فوری کام شروع کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے وزیراعلی کو یقین دلایا کہ ستمبر میں منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ وزیراعلی اور وفاقی وزیر نے اپنی اپنی ٹیموں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا برج فنانسنگ کی کوئی فوری ضرورت موجود ہے یا نہیں تاکہ منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

وزیراعلی نے نشاندہی کی کہ این ایچ اے نے جامشورو سیہون کی 66 کلومیٹر صنعتی شاہراہ ابھی تک مکمل نہیں کی حالانکہ 2017 میں اس کے لیے سات ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ اس پر وفاقی وزیر علیم خان نے بتایا کہ 66 کلومیٹر میں سے سیہون سے مانجھند تک کا حصہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ مانجھند سے خانوٹھ تک کے 24 کلومیٹر حصے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ وہ جاری کام کی تصویریں ساتھ لائے ہیں۔

اس پر وزیراعلی نے کہا کہ وہ ان پر اعتماد کرتے ہیں اور منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا جس پر وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ کام شروع ہو چکا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے کا مقصد بندرگاہی ٹریفک کو موٹروے سے جوڑنا تھا جو اب تک ممکن نہیں ہو سکا کیونکہ این ایچ اے نے اسے صرف ہلکی ٹریفک کے لیے مخصوص قرار دے رکھا ہے۔این ایچ اے نے اجلاس کو بتایا کہ ایک تھرڈ پارٹی آڈٹ میں لیاری ایکسپریس وے کو بھاری ٹریفک کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا ہے۔

تاہم این ایچ اے نے تجویز دی کہ غیر مصروف اوقات میں بھاری ٹریفک کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ وزیراعلی کی تجویز پر این ایچ اے نے انٹرچینجز کو بہتر بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔مراد علی شاہ نے سہراب گوٹھ پر ٹریفک کے دبا کی نشاندہی کی جہاں لیاری ایکسپریس وے سے آنے والی بندرگاہی ٹریفک اور مقامی ٹریفک آپس میں ملتے ہیں۔ انہوں نے شہر کی ٹریفک کو لیاری ایکسپریس وے کی ٹریفک سے علیحدہ رکھنے کے لیے ایک مخصوص سروس روڈ تعمیر کرنے کی تجویز دی۔

اجلاس میں سہراب گوٹھ پر ٹریفک جام کے مسئلے کے حل کے لیے انجینئرنگ بنیادوں پر حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد تک مجوزہ ایم 10 نئے موٹروے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ منصوبے کے مطابق یہ راستہ آئی سی آئی برج، کے پی ٹی، گلبائی اور حب چوکی کو براہ راست حیدرآباد سے جوڑے گا۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایم 10 منصوبے کی مکمل منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ اس پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ یہ موٹروے بھاری اور بندرگاہی ٹریفک کو براہ راست حیدرآباد کی طرف موڑنے میں مدد دے گا جس سے کراچی شہر کے اندر ٹریفک کا دبا کم ہوگا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر نے ایچ اے نے مراد علی شاہ وزیراعلی نے ٹریفک کے انہوں نے علیم خان ٹریفک کو کیا گیا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور مختلف کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر مفصل اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی علاقائی امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ  کی آئندہ سربراہی سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی و علاقائی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک چین تعلقات پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ وانگ یی شنگھائی تعاون تنظیم

متعلقہ مضامین

  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم