Juraat:
2026-06-03@08:07:59 GMT

یوم تکبیر، کریڈٹ کی مصنوعی موت

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

یوم تکبیر، کریڈٹ کی مصنوعی موت

ب نقاب /ایم آر ملک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کی تختی سے کریڈٹ کو مصنوعی موت سے نہیں مٹایا جاسکتا ۔
بھٹو اسلامی تاریخ کا روشن استعارہ تھا اور رہے گا عرصہ پہلے میاں برادران کے ایک حواری نے کہا تھا کہ ایٹمی پروگرام کا ارتقاء یحیٰ خان کا مرہونِ منت ہے، وہی یحیٰ خان جس نے حب ا لوطنی ہندو بنیئے کے ہاتھوں بیچ کر وطن عزیز کو دو لخت کیا ،معرکہ حق و باطل کے دوران جو شراب و کباب کی محفل میں طائوس و رباب اول کا پرچار کرتا رہا ۔اسد درانی جس کی کتاب کی تقریب رونمائی انڈیا میں ہوئی اپنی کتاب میں لکھا کہ ”ایٹمی پاکستان کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے ”۔جرنیلوں نے ہمیشہ ایسے فرد کے گن گائے جس نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ کر ان کی ہمنوائی کی۔
عدالت سے نااہل ہونے والے ایک شخص کا یہ بیانیہ بھی تسلسل کے ساتھ گونجتارہا کہ مجھے ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھنے کی سزا ملی لیکن بھٹو کی پارٹی پر قابض زرداری اور اس کے حواری جن کانعرہ ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ”ہماری سماعتوں سے ٹکراتا ہے۔ بھٹو کے تاریخی کارنامے کا دفاع کرنے کیلئے ان کی زبانیں گنگ ر ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ محب وطن قوتیں وطن عزیز میں ایٹمی دھماکے 18مئی1998کو انڈیا کے دھماکوں سے پہلے کرنے کی خواہاں تھیں مگر نواز شریف نے انکار کردیا ۔بالکل ایسے جیسے انڈیا کے حملے پر اس کی زبان خاموش ہے، نواز شریف نے اپنے وزیروں تک سے کہہ دیا کہ اگر ہم دھماکے نہ کریں تو اتنی دولت ہاتھ آسکتی ہے کہ ہماری نسلیں سنور جائیں گی ۔نوازشریف کی ہٹ دھرمی نے محب وطن حلقوں کو تشویش میں ڈال دیا، کلنٹن کو نواز شریف نے فون کیا کہ میں نے دھماکے نہ کئے تو میری حکومت گر جائے گی۔ یہ سب فوج کے ہاتھ میں ہے۔ جب مشرف کے ہاتھوں میاں نواز شریف جیل گئے تو حسین نواز نے انڈیا جاکر امبانی بزنس گروپ کے چیئرمین نیرو امبانی کے پائوں پکڑ لئے کہ میرے والد کو بچایا جائے ۔امبانی گروپ کے چیئرمین جس کے فنڈ سے را چلتی ہے نے کلنٹن کو فون کیا کہ نواز شریف کو ہر حال میں بچایا جائے۔ کلنٹن نے سعودی حکمرانوں سے مشرف حکومت پر دبائو ڈلوایا۔ لیکن اس جان خلاصی کے بدلے نواز شریف کو انڈیا کو یقین دہانی کرانا پڑی کہ آئندہ اقتدار میں آکر وہ انڈیا اور راء کے مفادات کا تحفظ کرے گا اور یہی کچھ پوری قوم نے دیکھا ۔کلبھوشن سے لیکر رمضان شوگر ملز میں راء کے ایجنٹوں کی بھرتی تک ایک داستان ہمارے سامنے آئی یہی نہیں ممبئی بم دھماکوں اور پٹھانکوٹ واقعہ کی گوجرانوالہ میں ایف آئی آر کا اندراج راء اور انڈیا کے مفادات کا تحفظ نہیں تو اور کیا ہے ؟
اور بھٹو !
بخدا وہ وطن عزیز کی بقاء اور دفاع کی خاطر قانون کی کمزور ترین دفعہ 109کے تحت تختہ دار پر چڑھ کر ہمیشہ کیلئے امر ہوا ہالینڈ میں مقیم ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے فخر ِ ایشیا کی درخواست پر مستقل طور پر پاکستان رہ کر نیو کلیئر پروگرام شروع کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا ۔18مئی 1974بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور چند گھنٹے بعد اعلیٰ افسران کے ہنگامی اجلاس میں اُس نے یہ تاریخی الفاظ کہے ”ہندو نے بم بنا لیا ہے اب ہمیں بھی بم بنانا ہو گا خواہ ہمیں گھاس پر ہی کیوں نہ گزارہ کرنا پڑے ” اور اُسے جب اپنے عزم کی تکمیل کی جھلک نظر آئی تو فطری خوشی اور جذبات سے مغلوب قائد عوام نے میز پر مکہ مارا اور یہ تاریخی الفاظ اُس کی زبان سے نکلے
”I will see Hindu Basterds now”
یہودیت ہمیشہ مسلمانوں کی ترقی سے خائف رہی یہودیت کے پروردہ ہنری کسنجر نے اپنا زہر اُگلا۔ ”بھٹو تم نے جس پروگرام کی ابتدا کی اِ س کی سزا بڑی کڑی ہے ” شہید وطن نے اسمبلی فلور پر یہ باور کرایا کہ سفید ہاتھی میری جان کے در پے ہے ڈاکٹر اے کیو خان نے تعمیر وطن کیلئے اپنا کام تیزی سے شروع کر دیا بھٹو کا یہ کارنامہ جو دفاع ِ وطن کیلئے تھا اور اُس قوم پرست کے ذہن میں یہ خناس سمایا ہوا تھا کہ میری قوم احساس کمتری سے نکلے یہودی لابی کی نظروں میں کھٹکتا رہا اور بالآ خر اس لابی نے اپنے پلان کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ذریعے اُس کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا استعماری طاقت کے ایک آلہ کار نام نہاد ” مرد ِ مومن مردِ حق ”نے تیسری دنیا کے لیڈر کیلئے ایک متنازعہ مقدمہ میں متنازعہ سزائے موت تجویز کی۔ ڈاکٹر قدیر خان نے استعماری طاقتوں کے آلہ کار کو لکھا ”یقینا بھٹو صاحب سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن پاکستان کی سلامتی کیلئے اُن کی بے پناہ خدمات کو سامنے رکھا جائے اور اُنہیں سزائے موت نہ دی جائے ” مگر جب کوئی دشمن وطن کے اشارہ و ابرو کا پابند ہو اُس کا ایجنٹ بن کر کام کر رہا ہو تو اُسے اپنے مفادات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، ضیا نے یہی کچھ کیا کہ ایٹمی پروگرام کے معمار کو پھانسی دیدی بھٹو نے دوران ِ حراست اپنی بائیو گرافی میں لکھا ”اگر مجھے قتل کیا گیا تو دنیا کی تاریخ بدل جائیگی اور یہی ہوا پوری دنیا میں مسلمان زیر عتاب آگئے نائن الیون کے خود ساختہ واقعے کے بعد مسلمان دہشت گرد ٹھہرے ۔اُس نے ایک موقع پر کہا تھا کہ عربوں کی معدنی دولت ،تیل کا پیسہ ورلڈ بنک میں پڑا ہے اور یہی پیسہ غریب اور ترقی پذیر مسلمان ممالک کو سود پر دیکر استعماری طاقتیں ان غریب اور ترقی پذیر ممالک کو معاشی طور پر دیوالیہ کر کے اُن کی غلامی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
بھٹو پاکستان ہی نہیں مسلم اُمہ کا درد رکھتا تھا پاسبان ِ حرم فیصل شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کسی مسلم دھرتی پر ورلڈ بنک کے خواہاں تھے مذکورہ جرائم کی سزائیں بڑی کڑی تھیں ایک کو گولی لگی اور دوسرا دار پر چڑھا
میاں نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں مسلم سربراہوں کا ناکام اجلاس طلب کیا تو کرنل معمر قذافی شہید کو بھی دعوت نامہ بھیجا ،بھٹو کے ساتھی نے جواب میں لکھا ”مجھے 1974میں ایسی ہی ایک مسلم سربراہوں کی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تھا اور میں نے لاہور میںہونے والی اس کانفرنس میں واقعی اسلامی قوتوں کو اکٹھے ہوتے دیکھا تھا لیکن بعد میں ایک ڈکٹیٹر نے اُس شخص کو جس نے ساری مسلمان قوم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی پھانسی پر لٹکا دیا میں آج تک اِس سانحہ کے غم سے باہر نہیں آسکا اِس لیئے میرے واسطے اس اجلاس میں شرکت کرنا مشکل ہے ”
معمار پاکستان کا نام ایٹمی پاکستان کے کریڈٹ کی تختی سے مٹا کر تاریخ کو مسخ کرنے والے آج یہ بھول رہے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک امتیاز کا نام ہے۔ فخرِ ایشیا کی بیٹی نے ایک موقع پر کہا تھا ”سچائی ،اصولوں اور عوام کی خاطر لڑنے والوں کے مقدر کا فیصلہ عدالتیں نہیں بلکہ عوام اور تاریخ کیا کرتے ہیں تاریخ نے حسین کو شہید اکبر اور اُنہیں باغی قرار دینے والوں کو ملعون ِ اکبر قرار دیا، تاریخ نے سرور شہید اور منصور ابن ِ حلاج کو کافر قرار دیکر شہید کرانے والے فتویٰ فروش قاضیوں کو اُن کے غلط فیصلوں سمیت حرف ِ غلط کی طرح مٹا دیا مگر سرور شہید اور منصور شہید کے نام مسیحائی ،حق پرستی ، اور صبرو استقامت کے تاریخی حوالے بن کر تا قیامت زندہ رہیں گے شاہ عنایت شہید کو مظلوم ہاریوں کی بات کرنے کے جرم میں دار پر چڑھانے والے حکمرانوں پر سندھ کے عوام آج بھی تھو تھو کرتے ہیں جبکہ عنایت شہید دار پر چڑھ کر امر ہوگئے ۔کیا شریف خاندان کی کسی قربانی کا تذکرہ تاریخ کے کسی باب میں ملے گا ،بھٹو خاندان کی قر بانیوں کی طویل داستان ہے ، بھٹو قوم پرستی کے جرم کا شکار ہوا ،شاہنواز پراسرار موت سے دو چار ہوا ،مرتضیٰ بھٹو بھی عالمی سازش کی بھینٹ چڑھا اور محترمہ بے نظیر کی موت بھی عالمی سازش کا نتیجہ ہے مگر ان ساری اموات کا پس منظر پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے ،شریف خاندان ہمیشہ جرنیلوں کی پالکی میں بیٹھ کر اقتدار میں آیا ،یہ دھماکے نواز شریف نے نہیں پاک فوج نے کئے ، کئی روز کی سوچ و بچار کے بعد جب ڈاکٹر قدیر نے اپنی قربانی کا ضیا ہو تے دیکھا تو نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ادارہ سے رجوع کیا
میاں صاحب !
کریڈٹ کبھی مصنوعی موت نہیں مرتا اور نہ ہی اسے مصنوعی موت مارا جاسکتا ہے اس کا اعتراف سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مر حوم نے ایک بار یوم تحفظ پاکستان کی ایک ریلی سے دوران خطاب کراچی میںاِن الفاظ میں کیا تھا ”ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ بھٹو کو جاتا ہے ”۔ آپ نے تو اس کو کوئی انعام نہیں دیا جس نے یوم ِ تکبیر کا نام تجویز کیا ،آج آپ جتنے جشن منائیں تاریخ اپنا فیصلہ لکھ چکی کہ ” کریڈٹ کو مصنوعی موت نہیں مارا جاسکتا ”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایٹمی پروگرام نواز شریف نے مصنوعی موت کیلئے ا اور یہ

پڑھیں:

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سے

پہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا

اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

The Trump administration will ask leading AI developers to voluntarily submit their most capable models for government cybersecurity tests before releasing them to the public, according to an executive order, as security fears mount in Washington over powerful new AI systems such…

— Reuters (@Reuters) June 3, 2026

اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں۔

حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی

لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ

انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

مزید پڑھیں:

اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو

سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والے

تھے۔

یہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی

نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی۔

مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم

ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو

ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا۔

اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی ٹرمپ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف