راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختون خوا میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل سمیت 4 جوان شہید ہو گئے۔ 28 اور 29 مئی کی درمیانی شب خوارج نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی کوشش کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی حمایت یافتہ 6 خوارج مارے گئے۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل سمیت 4 جوان شہید ہو گئے، شہید لیفٹیننٹ آپریشن کی فرنٹ سے قیادت کر رہے تھے۔

ایک لگن کھائے جا رہی تھی، علامہ اقبالؒ کا فرمان میرے ذہن نشین تھا کہ گلی گلی محلہ محلہ نوجوانوں کی تنظیمیں ہونی چاہئیں جو خدمتِ خلق کا کام کریں 

آئی ایس پی آر کے مطابق نائب صوبیدار کاشف رضا، لانس نائیک فیاقت علی اور سپاہی محمد حمید نے جامِ شہادت نوش کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی چترال میں ایک اور کارروائی کے دوران ایک خارجی دہشت گرد ہلاک ہو گیا، علاقے میں خارجیوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بھارتی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، بہادر سپوتوں کی یہ قربانیاں ہمارے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں،11بجے ہسپتال جاتا، سب مل کر چائے پیتے،ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر رہتا اور ”ہم رنگ“کھیلتے، ہارنے والی ٹیم چرغہ منگواتی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار