توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ پیش، مزید 2 گواہوں کے بیانات قلمبند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے موقع پر مزید 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے۔
اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی، آج بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
آج سماعت کے موقع پر مزید 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے۔ جس کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس میں مجموعی طور پر 8 گواہوں کے بیانات قلم بند ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کو عدالت میں پیش کردیا گیا، بشریٰ بی بی کا کمرہ عدالت میں آنے سے انکار توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں جلد سماعت کیلئے منظوربعدازاں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 11جون تک ملتوی کردی گئی۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی گزشتہ سماعت کے موقع پر عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جبکہ بشریٰ بی بی نے احتجاجاً کمرہ عدالت میں آنے سے انکار کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: توشہ خانہ ٹو کیس کی بانی پی ٹی عدالت میں اور بشری
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔