ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے امریکی دباؤ پر نہیں جھکیں گے، کوئی بھی آزاد انسان ظلم اور نا انصافی کے آگے نہیں جھکے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک اور منصوبے پر دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق دیگر ممالک کے ساتھ منصوبے پر کام کرنے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے امریکی دباؤ پر نہیں جھکیں گے، کوئی بھی آزاد انسان ظلم اور نا انصافی کے آگے نہیں جھکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔